شعروشاعری

Fana Nizami Kanpuri Poetry: دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے…..فنا نظامی کانپوری کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

مرزا نثار علی بیگ جن کا تخلص فنا تھا 1922ء میں کانپور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں سے انہوں نے دینیات، عربی، فارسی اور اردو زبان کی بنیادی کتابیں پڑھیں۔ فن سخن سے وابستگی کا آغاز کانپور ہی میں ہوا۔ سادگی، دینداری اور وضع داری ان کی شخصیت کا خاصہ تھیں۔ جوانی ہی سے داڑھی رکھتے تھے اور ہمیشہ روایتی لباس شیروانی اور پاجامہ پہننے کو ترجیح دیتے تھے۔ انھوں نے کبھی انگریزی لباس نہیں اپنایا۔ اگرچہ وہ شعری ذوق کے حامل تھے، لیکن ان کا کوئی باقاعدہ مجموعۂ کلام شائع نہیں ہوا۔ فنا 18 جولائی 1988ء کو اپنے آبائی شہر کانپور میں وفات پا گئے۔ اردو شاعری کے افق پر فنا نظامی کانپوری ایک ایسے شاعر کے طور پر ابھرے جنہوں نے خودداری، انا، قناعت اور انسانی وقار جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکزی موضوع بنایا۔

دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے

جب آگ سلگتی ہے اٹھتا ہے دھواں پہلے

فنا نظامی کانپوریؔ

کانپور میں ہی انہوں نے ادبی ذوق حاصل کیا۔ مذہبی تعلیم سے فراغت کے بعد چھوٹی چھوٹی ادبی نشستوں میں شرکت کی اور اپنی شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی آواز میں خاص ٹھہراؤ، تاثیر اور تحت اللفظ کی خوبصورتی نے انہیں جلد ہی ایک مشاعرے کا کامیاب شاعر بنا دیا۔ 1960 کی دہائی میں وہ ہندوستان بھر میں مشہور ہو چکے تھے اور 1980 کی دہائی میں حیدرآباد میں ایک مشاعرے میں خمار بارہ بنکوی کے ساتھ ان کی شرکت نے ان کی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا۔ فنا نظامی کی ایک غزل جو اس مشاعرے میں بہت مقبول ہوئی، اس کے اشعار آج بھی خودداری، انکار، انا اور عزتِ نفس کے استعارے سمجھے جاتے ہیں:

نااہلوں میں پینا پلانا، میرے بس کی بات نہیں

لیکن پیاسوں کو ترسانا، میرے بس کی بات نہیں

آنکھ اٹھا کر میں تو نہ دیکھوں، جس سے میرا دل نہ ملے

سب سے رسماً ہاتھ ملانا، میرے بس کی بات نہیں

یہ اشعار نہ صرف ان کے ذاتی مزاج کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ ایک باشعور، خوددار اور سچے انسان کی علامت بن چکے ہیں۔ فنا کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس سے تعلق رکھتے ہیں جس سے دل کا رشتہ ہو، رسمی تعلقات یا بناوٹی رویے ان کی فطرت سے میل نہیں کھاتے۔ فنا نظامی کانپوری کی شاعری فقط الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو خودی، حیا، غیرت اور حق پرستی کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ اردو شاعری میں ایک ایسی آواز ہیں جس نے رسمیات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

6 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

7 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

8 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

9 hours ago