نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے تیسرے یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ میگا کانکلیو میں ہندوستانی جمہوریت اور ایمرجنسی کے دور سے جڑی کئی اہم اور اندرونی کہانیاں سامنے آئیں۔ اس خصوصی سیشن میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نے اس دور کی سیاست سے جڑا ایک دلچسپ راز بیان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی (Emergency) کے بعد جب اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر جنتا پارٹی بنانے کی کوشش کر رہی تھیں تو اس وقت انہوں نے چودھری چرن سنگھ اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان ایک “ڈاکیہ” یعنی پیغام رساں کا کردار ادا کیا تھا۔
کے سی تیاگی نے اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے زمانے میں جن سنگھ کے بیشتر بڑے رہنما جیلوں میں بند تھے۔ جب یہ رہنما جیل سے رہا ہو کر واپس آ رہے تھے تو اس وقت اوم پرکاش تیاگی جن سنگھ کے راجیہ سبھا رکن تھے اور انہی کے ذریعے ان کی پارٹی کے رہنماؤں سے بات چیت ہوتی تھی۔
کے سی تیاگی نے بتایا کہ جنتا پارٹی کے قیام کے وقت اٹل بہاری واجپائی اور چودھری چرن سنگھ کے درمیان خطوط کے ذریعے رابطہ ہوتا تھا اور انہی خطوط کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں وہ ایک چھوٹے سے “ڈاکیا” کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ کسی بڑے لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ صرف ایک پیغام رساں کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
گفتگو کے دوران کے سی تیاگی نے اٹل بہاری واجپائی کی شخصیت اور ان کے مزاحیہ انداز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے غازی آباد کے گھنٹہ گھر میں ہونے والی ایک عوامی ریلی کا واقعہ سنایا۔ ان کے مطابق جب واجپائی بطور وزیر خارجہ ٹوکیو کے دورے سے واپس آئے تھے تو انہوں نے اپنی تقریر میں ایسے دلچسپ جملے کہے کہ پورا مجمع ہنس پڑا۔
کے سی تیاگی نے کہا کہ واجپائی نہ صرف ایک بڑے لیڈر تھے بلکہ جمہوریت کے سچے علمبردار بھی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ حکومت کو یکطرفہ فیصلے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ ان کے مطابق واجپائی کا نظریہ تھا کہ اگرچہ حکومت کے پاس اکثریت ہو، لیکن اہم فیصلوں میں اپوزیشن کی رائے بھی شامل کی جائے تو وہ فیصلے زیادہ مضبوط اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
اس دوران سی ایم ڈی اپیندر رائے نے گفتگو کو مزید دلچسپ بناتے ہوئے ایک مشہور واقعے کا ذکر بھی کیا، جس میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اٹل بہاری واجپائی کو طنزیہ انداز میں “ہٹلر” کہا تھا۔ اس واقعے پر دونوں رہنماؤں نے اُس دور کی سیاست کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
بھارت ایکسپریس میگا کانکلیو کا یہ سیشن ہندوستانی جمہوریت کے ان تاریخی لمحات کو زندہ کرنے میں کامیاب رہا جو آج کی سیاست کے لیے ایک اہم سبق سمجھے جاتے ہیں۔ کے سی تیاگی کی یادیں اور اوپیندر رائے کے سوالات نے اس پلیٹ فارم کو ایک ایسے فکری فورم میں تبدیل کر دیا جہاں نئے بھارت کی بات دراصل پرانے بھارت کی مضبوط جمہوری اقدار کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…