دہلی شراب پالیسی معاملے میں سی بی آئی کی اپیل پر دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا سمیت 23 ملزمان کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور ان سے سی بی آئی کی درخواست پر جواب طلب کیا ہے۔ پیر (9 مارچ) کو دہلی ہائی کورٹ میں دہلی ایکسائز پالیسی کیس کی اہم سماعت ہوئی۔ اس سے پہلے راؤز ایونیو کورٹ نے اس معاملے میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا سمیت تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سی بی آئی نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے تمام ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے سی بی آئی کی اپیل پر تحریری جواب داخل کرنے کو کہا۔
سی بی آئی کے دلائل
سی بی آئی کی جانب سے توشار مہتا نے عدالت میں مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی دارالحکومت کے سب سے بڑے گھوٹالوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی گئی ہیں اور مبینہ سازش کے تمام پہلوؤں کو ثابت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق: ملزمان نے 170 موبائل فون تباہ کیے۔ کووڈ‑19 وبا کے دوران جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن تھا اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں تھیں، اس وقت مبینہ طور پر رشوت کے لین دین کے لیے پرائیویٹ جیٹ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس کیس کے اہم گواہ دنیش اروڑا کے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا، حالانکہ انہوں نے میٹنگز میں ہونے والی گفتگو اور واقعات کی تفصیل فراہم کی ہے۔ اس لیے الزامات طے کرنے کے مرحلے پر ان کے بیانات کو قبول کیا جانا چاہیے۔
ہائی کورٹ کا حکم
سماعت کے دوران جسٹس سورن کانت شرما نے راؤز ایونیو کورٹ کی جانب سے سی بی آئی اور اس کے تفتیشی افسر کے خلاف دی گئی ریمارکس پر فی الحال روک لگا دی۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک اس معاملے پر ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا، تب تک ٹرائل کورٹ میں اس کیس سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے کی سماعت نہیں ہوگی۔ عدالت نے تمام ملزمان سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 16 مارچ مقرر کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…