قومی

Vande Bharatam: چھبیس ہزار سے زیادہ درخواستوں میں سے ’وندے بھارتَم‘ نے ملک کے بہترین نئے ٹیلنٹ کا کیا انتخاب

’وندے بھارتَم‘ کو ملک کی ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے سے درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں نقل و حمل، پائیداری، ٹیکنالوجی، زراعت، دفاع، صحت، مینوفیکچرنگ، تعلیم اور دیگر شعبوں سے متعلق نئے خیالات شامل تھے۔ منتخب گروپ میں ملک کے مختلف خطوں، شعبوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے اختراع کار شامل ہیں، جو ملک کے مسائل کے حل، نئی کاروباری سرگرمیوں کے قیام اور بڑے پیمانے پر مثبت اثر پیدا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

’صلاحیت ہر جگہ ہے، مواقع بھی ہر جگہ ہونے چاہئیں‘

اس اقدام کی بنیاد اس خیال پر رکھی گئی ہے کہ صلاحیت ہر جگہ موجود ہے، چاہے مواقع ہر جگہ دستیاب نہ ہوں۔ ’وندے بھارتَم‘ کے ذریعے ایسے نوجوان اور اختراع کار تلاش کیے جا رہے ہیں جنہیں تجربہ کار سرپرستوں، صنعت کے رہنماؤں، ماہرین اور اداروں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔ پہلے گروپ کے انتخاب پر گوتم اڈانی نے کہا کہ جب وہ ان اختراع کاروں کو دیکھتے ہیں تو انہیں مستقبل کے بھارت کے امکانات نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق صلاحیت کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہونی چاہیے اور مواقع کی بھی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں اس پہلے گروپ میں شامل کچھ افراد ایسے کاروباری ادارے اور اختراعات سامنے لائیں گے جو بھارت کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

14 اگست کو ہوگا گرینڈ فائنل

کثیر مرحلہ انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کیے گئے اختراع کار ’وندے بھارتَم امیرسیو ویک‘ میں حصہ لیں گے۔ اس دوران انہیں رہنمائی کے خصوصی سیشنز کے ساتھ کاروباری رہنماؤں، صنعت کاروں، ماہرین اور دیگر شعبوں سے وابستہ شخصیات کے ساتھ بات چیت کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد متعدد مراحل میں ان کی صلاحیت اور خیالات کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔ پروگرام کا اختتام 14 اگست کو ’وندے بھارتَم گرینڈ فائنل‘ کے ساتھ ہوگا، جہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اختراع کاروں کو اعزاز سے نوازا جائے گا اور انہیں ’وندے بھارتَم ٹرافی‘ پیش کی جائے گی۔

مقابلے سے آگے قومی پلیٹ فارم بنانے کا ہدف

’وندے بھارتَم‘ کو محض ایک مقابلے تک محدود نہیں رکھا گیا ہے۔ طویل مدتی طور پر اس کا مقصد ایک ایسا قومی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جو ملک کے دور دراز علاقوں اور روایتی کاروباری مراکز سے باہر موجود باصلاحیت افراد اور ان کے خیالات کو ابتدائی مرحلے میں تلاش کرے۔ اڈانی گروپ کے مطابق اس اقدام کے ذریعے اختراع کاروں کو ایسے افراد اور اداروں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی جو ان کے خیالات کو عملی منصوبوں اور مؤثر کاروباری اداروں میں تبدیل کرنے میں مدد کر سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Saayoni Ghosh Statement: ’’راہل گاندھی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے ساتھ جڑے کانگریس‘‘، سایونی گھوش کا مشورہ

این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…

35 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: نوجوانوں کو بڑا تحفہ، 20ویں روزگار میلے میں 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو پی ایم مودی دیں گے تقرری نامے

20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…

1 hour ago

Moody’s India GDP Forecast: جی 20 ممالک میں بھارت سب سے آگے، موڈیز نے جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کیوں کیا؟

موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…

3 hours ago