جکارتہ: وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز انڈونیشیا پہنچنے پر صدر پربوو سوبیانتو کی جانب سے ہوائی اڈے پر کیے گئے پرتپاک استقبال کو دل کو چھو لینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما مختلف شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید رفتار دینے کے لیے اہم بات چیت کریں گے۔ اپنے تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں انڈونیشیا پہنچنے پر وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’’میں جکارتہ پہنچ گیا ہوں۔ ہوائی اڈے پر صدر پربوو سوبیانتو کے استقبال کے جذبے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ 2018 میں ہم نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک پہنچایا تھا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ ہوا ہے۔‘‘
Landed in Jakarta. I’m touched by President Prabowo Subianto’s gesture of welcoming me at the airport.
In 2018 we elevated our relations to a Comprehensive Strategic Partnership, which has benefitted our people.
During this visit, President Prabowo Subianto and I will hold… pic.twitter.com/rG61TGGDdY
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2026
جامع شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ
وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس دورے کے دوران وہ صدر پربوو سوبیانتو کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تبادلۂ خیال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صدر پربوو کے ہمراہ یوگیاکارتا میں واقع تاریخی پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیر اعظم مودی کے انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی انڈونیشیائی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ان کے خصوصی طیارے کو اعزازی حصار میں لے کر فضائی سلامی پیش کی۔ جکارتہ پہنچنے پر انہوں نے روایتی ثقافتی رقص کا مظاہرہ بھی دیکھا۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ
6 سے 11 جولائی تک جاری رہنے والے اپنے تین ملکی دورے کے دوران وزیر اعظم مودی انڈونیشیا کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ روانگی سے قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘، ’’مہاساگر وژن‘‘ اور آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل کے تصور کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
تجارت، معدنیات اور سرمایہ کاری پر بھی بات چیت
وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ دورے کے دوران نکل، تانبہ، باکسائٹ اور ٹن جیسے اہم معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی، کیونکہ انڈونیشیا دنیا کے تقریباً 21 فیصد نکل کے ذخائر کا مالک ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…