قومی

West Bengal | TMC MP Saugata Roy: سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹی ایم سی کا ردعمل، ممتا بنرجی کے قریبی رکن پارلیمنٹ نے غیر جانبدار نتائج پر دیا زور

نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی سے متعلق  سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا پہلا باضابطہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے واضح کیا ہے کہ ان کی عرضی کا مقصد صرف انتخابی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا تھا، قابل ذکر بات  یہ ہے کہ عدالت نے ان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔سوگت رائے نے اپنے بیان میں کہا، “ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع اس لیے کیا تھا کہ آخر ووٹوں کی گنتی کے لیے صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو ہی کیوں تعینات کیا جا رہا ہے، جب کہ ریاستی حکومت کے ملازمین کو اس عمل میں شامل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ منصفانہ نتائج کے لیے دونوں سطحوں کے اہلکاروں کی شمولیت ضروری ہے، لیکن عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔”

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کوئی نیا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ محض الیکشن کمیشن آف انڈیاکے وکیل کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 13 اپریل کے سرکلر پر عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ملازمین مشترکہ طور پر ووٹوں کی گنتی کے عمل میں شامل ہوں گے۔ یہ وہی نکتہ ہے جس پر ٹی ایم سی بھی زور دیتی رہی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ ٹی ایم سی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا ،جس میں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ پارٹی نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت اور پبلک سیکٹر اداروں کے ملازمین کو سپروائزر مقرر کرنا غیر منصفانہ ہو سکتا ہے۔

اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ نے کی، جس میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جویمالیہ باگچی شامل تھے۔ ٹی ایم سی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے دلائل پیش کیے اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ گنتی کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد بنگال کی سیاست میں مزید گرما گرمی آ سکتی ہے، کیونکہ تمام جماعتیں 4 مئی کو آنے والے انتخابی نتائج کی منتظر ہیں، جو ریاست کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

3 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

4 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

5 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

6 hours ago