جنگلی حیات کو نئی زندگی بخشنے والے رادھے شیام بشنوئی
ریگستان کی خشک زمین پر ایک شخص نے ایسا معجزہ کر دکھایا، جس کی وجہ سے سینکڑوں جنگلی جانوروں کو نئی زندگی مل رہی ہے۔ راجستھان کے پوکھرن میں رہنے والے رادھے شیام بشنوئی نے 50 سے زیادہ آبی ذخائر (تالاب) بنائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی جنگلی جانور پیاسا نہ رہے۔ ان کا سفر جو 2018 میں صرف 1 لیٹر پانی سے شروع ہوا تھا آج 10,000 لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
رادھے شیام بشنوئی کو بچپن سے ہی زخمی جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال کا شوق تھا۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ ریگستان کا فخر، گریٹ انڈین بسٹرڈ (گوڈاور) معدوم ہونے کے دہانے پر ہے، تو اس نے اکیلے ہی اسے بچانے کا عزم کیا۔ یہ نوجوان جس نے ابھی دسویں جماعت پاس کی ہے، دن رات جنگل میں گھوم کر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی جنگلی جانور انسانی لالچ کا شکار نہ ہو۔
ریسکیو مشن سے لے کر پانی کے تحفظ تک انوکھے اقدامات
ابتدائی دنوں میں جب انہوں نے زخمی جانوروں کو بچایا تو ان میں سے کئی مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اس نے جودھ پور کے فاریسٹ ریسکیو سینٹر میں ٹریننگ لی اور جنگلی حیات کے علاج، ابتدائی طبی امداد اور آپریشن کی پیچیدگیاں سیکھیں۔ 2015 میں، انہوں نے ایک مہم شروع کی جس میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے لیے ریلوے ٹریک، ہائی ٹینشن تاروں اور سڑک حادثات کی نگرانی شامل تھی۔
اس دوران انہیں احساس ہوا کہ گرمیوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے بہت سے جانور مر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس نے اپنی کمائی سے پانی کے ٹینکر کا انتظام کیا اور 2018 میں پوکھرن میں 1 لیٹر سے لے کر 10 ہزار لیٹر تک کے آبی ذخائر بنائے۔ ان کے اس اقدام سے جنگلی جانوروں کو پینے کا پانی ملنے لگا اور اس کا ان کی زندگیوں پر مثبت اثر پڑا۔
جنگلی حیات کے تحفظ میں بڑی کامیابی
رادھے شیام کے ان ذخائر نے نہ صرف گریٹ انڈین بسٹرڈ پرندوں کو نئی زندگی بخشی بلکہ یہ جگہ چنکارا، نیل گائے اور دیگر جنگلی حیات کے لیے بھی لائف لائن بن گئی۔ چنکارا کی شرح اموات، جو پہلے 10-12 یومیہ تھی، اب ایک ماہ میں 1-2 پر آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گریٹ انڈین بسٹرڈ کی تعداد میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ بشنوئی برادری بھی اب اس مہم کا حصہ بن گئی ہے اور آبی ذخائر میں صفائی اور پانی بھرنے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔
شکاریوں کے خلاف بھی آواز بلند کی
رادھے شیام صرف پانی کے تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ غیر قانونی شکار کے خلاف بھی پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب تک، انہوں نے 50 سے زائد مقدمات درج کرائے ہیں اور 300 سے زیادہ شکاریوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا ہے۔ اب ان کا نیا منصوبہ گریٹ انڈین بسٹرڈ پرندوں کے انڈوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ یہ پرندہ ہر سال صرف ایک انڈا دیتا ہے لیکن اس کے زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ رادھے شیام کی یہ پہل گریٹ انڈین بسٹرڈ کی آبادی کو مزید تقویت دے گی۔
سچی لگن سے ناممکن ممکن ہو جاتا ہے
ریگستان میں پانی کی فراہمی کسی معجزے سے کم نہیں لیکن رادھے شیام وشنوئی کی غیر متزلزل قوت ارادی اور لگن نے اس ناممکن کام کو ممکن بنا دیا۔ آج وہ نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک تحریک بن چکے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ان کی کاوشیں ایک مثال ہیں، جنہیں سلام کرنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…