قومی

Dr Naseer Hussain on deportation issue: راجیہ سبھا میں سید ناصر حسین اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر درمیان نوک جھوک، کانگریس ایم پی نے کہہ دی بڑی بات

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں جمعرات کے روز کانگریس ایم پی سید ناصر حسین اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان ہلکی نوک جوک دیکھنے کو ملی۔ در اصل، پی مودی کی طرف سے 2020 کے امریکی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں کمپیننگ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ مودی جی کے دوست کے صدر بنتے ہی پہلا حملہ ہندوستانیوں پر ہوا ہے۔  یہاں بتاتے چلیں کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس بارڈر پٹرول (یو ایس بی پی) نے بدھ کے روز 104 ہندوستانیوں کو امریکی فوج طیارے میں ڈال کر ان کے وطن واپس بھیج دیا ہے۔

کانگریس ایم پی سید ناصر حسین نے کہا، ’’پہلی بار ہم لوگوں نے دیکھا تھا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم دوسرے ملک میں جا کروہاں کے صدارتی امیدوار   کے لیے کیمپین کیے تھے، وہ اب سرکار بھی بنائے ہیں، لیکن اچانک مودی جی کے دوست کے صدر بنتے ہی پہلا حملہ ہندوستانیوں پر ہے۔‘‘

انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا، ’’جس طرح سے ہندوستانیوں کو ہیوملیٹ کیا گیا ہے، جس طرح سے چین پہنا کر بے عزت کر کے یہاں بھیج رہے ہیں، تو میرا سوال یہ کہ کیا ہندوستانی سرکار کے پاس ایک ایرو پلین یا ایئر کرافٹ نہیں تھا اپنے لوگوں کو لانے کے لیے؟‘‘ اس دوران راجیہ سبھا ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ  نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں بولنے سے روک دیا۔

اس کے بعد کانگریس ایم پی کے سوال کا جواب دینے کے لیے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے راجیہ سبھا ڈپٹی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ سر! سوال سے متعلق کوئی سپلیمنٹری سوال نہیں ہے، ممبر (سید ناصر) ظاہری طور پر پارٹی جیسا رویہ رکھتے ہیں، مسلسل ایوان میں جھوٹ بول رہے ہیں، وزیر اعظم نے کسی کے لیے کیمپین نہیں کیا، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پارٹی (کانگریس) نے اس طرح کا رویہ اپنایا ہو، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بیان کو واپس لیں۔‘‘

اس کے بعد دوسرا سوال پوچھنے کے لیے کانگریس لیڈر سید ناصر حسین کھڑے ہوئے۔ انہوں کہا کہ وزیر خارجہ لائیو غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ کیا میں جھوٹ بول رہا تھا؟

بتا دیں کہ بدھ کے روز امرتسر کے سری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 104 ہندوستانی شہریوں کو لے کر ایک امریکی فوجی طیارہ پہنچا۔ ان مہاجرین میں سے 30 کا تعلق پنجاب سے، 33 کا ہریانہ اور گجرات سے، تین کا تعلق مہاراشٹر اور اتر پردیش سے ہے جبکہ دو کا تعلق چنڈی گڑھ سے ہے۔ ان میں 19 خواتین اور 13 نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ امریکہ سے بے دخلی کی یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی چند دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Drishyam 3: انہیں کسی اور ٹیک کی ضرورت نہیں پڑتی، شریا سرن نے ’دریشیم 3‘ کے ساتھی اداکار اجے دیوگن کی تعریف کی

اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…

2 minutes ago

Jantar Mantar Protest: انڈیا اتحاد کے احتجاج کے دوران ہنگامہ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دھرنے پر بیٹھے

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…

56 minutes ago

INDIA bloc Protest March Against EC: الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا احتجاجی مارچ، گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ

احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: صحافیوں کے لیے دہلی پولیس کی گائیڈ لائن، یوزر بولے- پہلے خود اپنی نیم پلیٹ لگائیے

دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے…

2 hours ago