قومی

CM Vijay to face floor test: وزیراعلیٰ سی جوزف وجے آج اسمبلی میں کریں گے فلور ٹیسٹ کا سامنا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز

چنئی: سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویٹری کزگم حکومت آج تمل ناڈو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کا سامنا کرے گی۔ وزیراعلیٰ وجے کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔ فلور ٹیسٹ سے قبل تملگا ویٹری کزگم اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے کئی اراکین اسمبلی تمل ناڈو سکریٹریٹ واقع اسمبلی احاطے پہنچ گئے۔ سی جوزف وجے نے گورنر کے سامنے اپنی اکثریت ثابت کر دی تھی۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں تملگا ویٹری کژگم نے 108 نشستیں حاصل کی تھیں۔ بعد ازاں کانگریس نے اپنی پانچ نشستوں کے ساتھ حمایت کا اعلان کیا، جبکہ سی پی آئی، سی پی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل نے دو، دو نشستوں کے ساتھ اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح حکمراں اتحاد کی مجموعی طاقت 121 نشستوں تک پہنچ گئی، جس کے بعد وجے نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔

اے آئی اے ڈی ایم کے میں اختلافات کی چہ مگوئیاں

ادھر اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ پارٹی کے اندر دو الگ دھڑوں کے ابھرنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جن میں ایک دھڑا سی وی شنموگم جبکہ دوسرا سابق وزیراعلیٰ ایڈپاڈی کے پلانی سوامی کے ساتھ بتایا جا رہا ہے۔ سی وی شنموگم نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے بیشتر اراکین نے ڈی ایم کے کی حمایت سے حکومت بنانے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اسی دوران وجے نے منگل کو سی وی شنموگم کے دفتر کا بھی دورہ کیا، جسے ریاست کی سیاسی صف بندی میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایک رکن اسمبلی نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے ایڈپاڈی پلانی سوامی ہی کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’’تقریباً 25 ایم ایل اے یہاں آئیں گے۔ اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ تمام لوگ پارٹی کے ساتھ رہیں گے اور سب کو قائل کر لیا جائے گا۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

وہپ کی خلاف ورزی پر نااہلی کی وارننگ

فلور ٹیسٹ سے قبل اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے اراکین کے لیے وہپ جاری کر دیا ہے۔ پارٹی کے راجیہ سبھا رکن آئی ایس انبدورئی نے خبردار کیا کہ پارٹی وہپ کے خلاف ووٹ دینے والے کسی بھی رکن کے خلاف انسدادِ انحراف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب اما مکل منیترا کزگم کے جنرل سکریٹری ٹی ٹی وی دنکرن نے پارٹی ایم ایل اے ایس کامراج کو ٹی وی کے حکومت کی حمایت کرنے پر پارٹی کی بنیادی رکنیت اور تمام عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ آج کا فلور ٹیسٹ صرف سی جوزف وجے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کا امتحان نہیں بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے سیاسی اتحاد اور داخلی یکجہتی کے لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں اے آئی اے ڈی ایم کے نے 47 نشستیں حاصل کی تھیں اور یہ جماعت این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

4 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

5 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

6 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

7 hours ago