قومی

Employment Growth in India: بھارت میں روزگار بڑھانے کے لیے ہنر کی تربیت اور چھوٹے پیمانے کی صنعتیں سب سے ضروری: این سی اے ای آر

نئی دہلی: نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی ایک نئی اور جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دو بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، مہارت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور چھوٹے صنعتوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا۔ رپورٹ کی تیاری کی قیادت پروفیسر فرزانہ آفریدی اور ان کی ٹیم نے کی ہے، جس میں بھارت کی موجودہ روزگاری صورتِ حال اور مستقبل کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں روزگار میں ہونے والا اضافہ زیادہ تر خود روزگاری کی بدولت ہے، جبکہ تربیت یافتہ اور مہارت زدہ ملازمین کی تعداد بہت دھیمے انداز میں بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت نے ٹیکسٹائل، فٹ ویئر، فوڈ پروسیسنگ جیسے لیبر-انٹینسو صنعتوں اور مختلف خدماتی شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھائے تو ملک کی جی ڈی پی تقریباً 8 فیصد کی مستحکم رفتار سے ترقی کر سکتی ہے۔ یہ رفتار بھارت کے ’وِکست بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ این سی اے ای آر کے وائس چیئرمین منیش سبھروال نے کہا کہ بھارت تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب بڑھ رہا ہے، حالانکہ فی کس آمدنی کے معاملے میں ملک ابھی 128ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے جب بھارت بہتر روزگار پیدا کر کے سبھی شہریوں کو ترقی کے راستے پر ساتھ لے جا سکتا ہے۔

پروفیسر آفریدی نے بتایا کہ ملک میں زیادہ تر لوگ خود کاروبار اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس باوقار ملازمتوں کے محدود مواقع ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے چھوٹے کسان کم وسائل کے ساتھ کام کرتے ہیں، ویسے ہی چھوٹی صنعتیں بھی کم سرمایہ، کم ٹیکنالوجی اور کم پیداواری صلاحیت کے ساتھ چلتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کے مستقبل کے زیادہ تر روزگار انہی چھوٹے صنعتوں سے پیدا ہوں گے، اس لیے ان کی مضبوطی پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال کے سبب مزدوروں کو نئی مہارتیں سکھانا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ اگر بھارت میں مہارت یافتہ افرادی قوت کی تعداد 12 فیصد بڑھائی جائے تو 2030 تک روزگار میں 13 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر مہارت یافتہ کارکنوں کی تعداد 9 فیصد بڑھی تو تقریباً 93 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ کپڑا، جوتا سازی اور غذائی پراسیسنگ جیسے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے علاوہ سیاحت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مضبوط کرنے سے ملک میں وسیع پیمانے پر روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

23 minutes ago

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

16 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

17 hours ago