ملک کی تمام عمارتوں کوزلزلے سے محفوظ بنانے سمیت دیگر مطالبات کے سلسلے میں دائر درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر دائر کی گئی درخواست پر سماعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جسٹس وکرمناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ یہ درخواست اجے کمار جین نامی شخص نے دائر کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس سندیپ مہتا نے طنزیہ انداز میں درخواست گزار سے پوچھا کہ ’’تو کیا ہمیں سب کو چاند پر بھیج دینا چاہیے یا کہیں اور؟‘‘ جین کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی 75 فیصد آبادی ہائی سیسمک زون میں رہتی ہے، اور افسران کو ایسے اقدامات کرنے کے احکامات دیے جائیں جو زلزلے سے ہونے والے نقصان کو کم کر سکیں۔
محفوظ عمارتوں کی ضرورت پر بحث
سماعت کے دوران درخواست گزار نے دلیل دی کہ جاپان میں حال ہی میں رِئیکٹر اسکیل 7 کا زلزلہ آیا، لیکن خاص قسم کی عمارتوں کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اس لیے بھارت میں بھی ایسی عمارتیں بنانے پر غور ہونا چاہیے۔ اس پر جسٹس وکرمناتھ نے کہا کہ اگر بھارت میں بھی جاپان جیسے آتش فشانی حالات پیدا ہوں تو پھر دونوں ممالک کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلے دہلی کو ہائی سیسمک زون مانا جاتا تھا، لیکن تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تقریباً 75 فیصد آبادی اس زمرے میں آتی ہے۔ ہمالیہ میں بڑے زلزلے کا خطرہ مستقل موجود ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں جیسے گھنی آبادی، کمزور بنیادی ڈھانچہ، اور زمین کھسکنے یا برفانی تودوں کا خطرہ۔ تاریخ اور ارضیاتی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں پہلے بھی کئی تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں جن سے جان و مال کا بھاری نقصان ہوا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)…
ایئر انڈیا کی اس نئی سہولت کا مقصد بیرون ملک پہنچنے کے بعد مقامی سم…
بہار میں راج بھون مارچ کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ اسمبلی…
بدھ کے روز ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ…
بھارتی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جوش و خروش…
معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو اور نائب صدر…