نئی دہلی: شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو لے کر بڑا سیاسی دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ پر چاہے جتنی بحث اور غور و فکر کرلیا جائے، لیکن 2029 میں این ڈی اے اقتدار میں واپس نہیں آئے گا۔ سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی سیاسی طور پر بہت آگے نکل چکے ہیں اور ملک کے ’غیر متنازع لیڈر‘ بن گئے ہیں۔راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ 2012 میں نریندر مودی جس سیاسی مقام پر تھے، آج راہل گاندھی اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے اس بیان کو آئندہ لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ راوت کے مطابق اپوزیشن کی سیاست میں راہل گاندھی کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے اور وہ قومی سطح پر ایک مضبوط سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔
ون نیشن، ون الیکشن پر این ڈی اے کو نشانہ
سنجے راوت نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے معاملے پر بھی این ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر چاہے جتنی میٹنگز، بحث یا غور و فکر کرلیا جائے، 2029 میں موجودہ حکمران اتحاد کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کے اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مراٹھی زبان کے معاملے پر اکھلیش یادو کی حمایت
سنجے راوت نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے مراٹھی زبان سے متعلق بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو نے ایسا کچھ نہیں کہا جسے متنازع قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق ہر ریاست میں مقامی زبان کا علم ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں قانون بھی موجود ہے، لیکن قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔راوت نے سوال اٹھایا کہ اگر عام لوگوں سے مراٹھی زبان سیکھنے یا بولنے کی توقع کی جاتی ہے تو بڑی کارپوریٹ کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے افراد کو بھی مراٹھی آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دفاتر اور کارپوریٹ شعبے میں کام کرنے والے لوگوں پر بھی مقامی زبان سے متعلق یکساں اصول لاگو ہونے چاہئیں۔ راوت نے زور دیا کہ ہر ریاست کے لوگوں کو اپنی مقامی زبان فخر اور خودداری کے ساتھ بولنی چاہیے۔
اکھلیش یادو نے کیا کہا تھا؟
اکھلیش یادو نے مراٹھی زبان کے معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا تھا کہ ہر ریاست کی مادری زبان کا احترام اور فروغ ہونا چاہیے، لیکن کسی بھی زبان کو سیاسی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق زبان کی سیاست ملک کی لسانی اور جذباتی یکجہتی میں فاصلے پیدا کرسکتی ہے۔انہوں نے ممبئی میں زبان سے متعلق شرائط پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ کیا ایسی شرط ملک بھر میں کاروبار کرنے کی آئینی آزادی کے حق کو متاثر نہیں کرتی؟ اکھلیش یادو نے مزید کہا تھا کہ اگر زبان سے متعلق ایسی شرائط نافذ کی جارہی ہیں تو ممبئی میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔اکھلیش نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ دولت مند طبقے کے سامنے نرم رویہ اختیار کرتی ہے، جبکہ غریب، محروم، استحصال زدہ اور نظرانداز کیے گئے طبقات پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔ سنجے راوت کے تازہ بیان نے زبان کے سوال کے ساتھ ساتھ 2029 کے عام انتخابات اور اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی پر بھی بحث تیز کردی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…
ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس کے بانی ژانگ یِمنگ ایشیا کے امیر ترین…