قومی

UP Politics: یونیفارم بدلی، رنگ بدلا، کیا بدلے گی قسمت؟ اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے آیا اکھلیش کا نیا روپ

اتر پردیش کی سیاست میں علامتوں کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔ اب سماج وادی پارٹی کی بنیادی شناخت ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ دلت تحریک کی علامت سمجھے جانے والے ’نیلے رنگ‘ کا امتزاج بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اکھلیش یادو کا یہ نیا تجربہ ریاست کے سیاسی مساوات کو نئی سمت دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اکھلیش یادو نے طلبہ تنظیم کی نئی یونیفارم کے ذریعے ’پسماندہ، دلت، اقلیت‘ فارمولے کو ایک نیا بصری انداز دینے کی کوشش کی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے کمزور ہوتے اثر اور 2024 کے عام انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی کامیابی کے بعد اب پارٹی کی نظر ریاست کے تقریباً 20 فیصد دلت ووٹروں پر ہے۔ روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘ شامل کرکے پارٹی 2027 کے انتخابات کے لیے ایک نئے سیاسی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

’پسماندہ، دلت، اقلیت‘ کو ملا نیا رنگ

سماج وادی پارٹی کی طلبہ شاخ کے لیے نیلی ٹی شرٹ اور لال ٹوپی کا امتزاج تیار کیا گیا ہے۔ اکھلیش یادو نیلے رنگ کو امبیڈکر وادی فکر، آئین کے تحفظ اور بہوجن تحریک کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی کم ہوتی انتخابی طاقت کے درمیان سماج وادی پارٹی کا یہ قدم اپنے ’پسماندہ، دلت، اقلیت‘ ووٹ بینک کو مزید مضبوط اور واضح بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دلت ووٹ بینک پر توجہ

2024 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد سماج وادی پارٹی کا اعتماد بڑھا ہے۔ اتر پردیش میں دلت برادری کی آبادی تقریباً 20 فیصد ہے۔ پارٹی جانتی ہے کہ صرف روایتی ووٹ بینک کے سہارے اقتدار تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ اسی وجہ سے ’بابا صاحب واہنی‘ کی تشکیل کے بعد اب نیلی ٹی شرٹ کے ذریعے ’سماج وادی اور امبیڈکر وادی‘ سوچ کو ایک ساتھ زمین پر اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پرانے سیاسی تشخص کے ساتھ نیا تجربہ

اس پوری کوشش میں خاص بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی نے اپنی پرانی شناخت سے دوری اختیار نہیں کی ہے۔ کارکنوں کے سروں پر روایتی لال ٹوپی برقرار رہے گی، جو پارٹی کی ابتدائی تحریکوں سے جڑی رہی ہے۔ مخالفین کی بیان بازی کے باوجود اکھلیش یادو نے پارٹی کی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس میں نیلے رنگ کا نیا سیاسی پہلو شامل کیا ہے۔

2027 کا اہم ہدف

اکھلیش یادو اپنی تقریروں میں مسلسل آئین، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور سماجی انصاف کے مسائل کو نمایاں کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کے سامنے بھارتیہ جنتا پارٹی کی فلاحی اسکیموں سے جڑے ووٹ بینک میں اپنی جگہ بنانے کا بڑا چیلنج بھی ہوگا۔بہرحال، نیلی ٹی شرٹ کا یہ فیصلہ محض لباس میں تبدیلی نہیں ہے، بلکہ 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے تیار کی جا رہی سیاسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

1 hour ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

2 hours ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

2 hours ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

3 hours ago