قومی

پروں کو مت کاٹیے، انہیں پرواز دیجیے، اے ایم یو کے طلبہ کی آواز کو سننے کا وقت ہے، یہی نوجوان اس چمن کے پھول ہیں

تحریر: خالد مصطفیٰ (علیگ )

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محض ایک جامعہ نہیں، ایک فکر، ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک ایسی تحریک کا نام ہے جس نے ہندوستان کی کئی نسلوں کو علم، شعور، قیادت اور خدمتِ خلق کا راستہ دکھایا ہے۔ اسی سرزمینِ علی گڑھ پر آج جامعہ کے طلبہ اپنے ایک بنیادی سوال کے ساتھ آواز بلند کر رہے ہیں کہ طلبہ یونین کے انتخابات آخر کب ہوں گے؟ 2018-19 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونے کے باعث آج طلبہ کے ایک طبقے میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کی نمائندگی کا وہ جمہوری راستہ، جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل اور مطالبات انتظامیہ تک پہنچاتے تھے، طویل عرصے سے معطل ہے۔ October 2026 میں ڈک پوائنٹ پر جاری طلبہ کا دھرنا اور بھوک ہڑتال اسی سوال کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر رہی ہے۔یہ صرف ایک انتخاب کی بات نہیں۔ یہ نئی نسل کے اعتماد، اس کے مستقبل اور اس کی آواز کا سوال ہے۔کیا طالب علم صرف ملازمت حاصل کرنے کے لیے جامعہ آتا ہے؟ اس سوال پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ جب کوئی نوجوان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے تو اس کی آنکھوں میں صرف ملازمت کا خواب نہیں ہوتا۔ کوئی استاد بننا چاہتا ہے، کوئی صحافی، کوئی وکیل، کوئی سائنس داں، کوئی منتظم، کوئی سماجی کارکن اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو مستقبل میں سیاست کے میدان میں قدم رکھ کر عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔

کیا یہ خواہش غلط ہے؟

کیا تعلیم حاصل کرنے والا ایک نوجوان اگر اپنی تعلیم کے ساتھ قیادت کی صلاحیت پیدا کرنا چاہے تو یہ کوئی جرم ہے؟ ہر طالب علم کو ملازمت مل جائے، یہ ضروری نہیں، لیکن ہر طالب علم کو اپنی صلاحیت آزمانے کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔ آج کا طالب علم کل یونیورسٹی کورٹ کا رکن بن سکتا ہے، کیبنٹ میں ذمہ داری سنبھال سکتا ہے،سیکریٹری بن سکتا ہے، نائب صدر بن سکتا ہے، صدر منتخب ہو سکتا ہے اور مستقبل میں اگر اس کا میدان سیاست ہو تو رکن اسمبلی، رکن قانون ساز کونسل یا رکن پارلیمنٹ بن کر بھی ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے۔یہ راستہ ہر طالب علم اختیار کرے، ایسا ضروری نہیں۔ لیکن جس کے اندر صلاحیت، جذبہ اور خدمت کا خواب ہے، اس کے لیے دروازہ بند بھی نہیں ہونا چاہیے۔

مستقبل کس نے دیکھا ہے؟

آج ڈک پوائنٹ پر بیٹھا ہوا کوئی طالب علم شاید کل کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہو۔کوئی ملک کا بڑا صحافی بن سکتا ہے۔کوئی جج، وکیل یا افسر بن سکتا ہے۔کوئی سائنس داں بن سکتا ہے۔ اور ممکن ہے کوئی ایسا بھی ہو جو کل ملک کی سیاست میں اپنی شناخت قائم کرے۔ حامد انصاری پہلے اے یو طلب علم رہے پھر بعد میں اے ایم یو کے وائس چانسلر بنیں اس کے بعد ہندوستان کے بڑے عہدے پر نائب صدر جمہوریہ ہند کے عہدے پر فائز ہوئے یہ قابل تعریف لمحہ ہوتا ہے جب AMU کا طالب علم یہیں سے تعلیم حاصل کرے پھر ایک بڑے عہدے پر فائز ہوتا ہے تو ملک کے ساتھ ساتھ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام روشن کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سنہری ورقوں میں اس کا نام درج ہو جاتا ہے. عزت ماب حامد انصاری سابق صدر جمہوریہ ہند کے ساتھ ساتھ بہت ساری عظیم شخصیت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے پڑھنے کے بعد بڑے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اب بھی ہیں اور بیرونی ملک میں ان کا بہت بڑا مقام کے ساتھ نام بھی ہے، کون کہاں پہنچے گا، یہ آج کوئی نہیں جانتا۔نہ کسی کو معلوم ہے کہ کس طالب علم کے مقدر میں کون سا مقام لکھا ہے، نہ یہ معلوم ہے کہ آج کا کون سا نوجوان کل کس میدان میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوائے گا۔تقدیر کے بارے میں مکمل علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔اس لیے کسی نوجوان کی آج کی حالت دیکھ کر اس کے کل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔اُبھرتے ہوئے ستارے کب کس آسمان کو روشن کر دیں، کوئی نہیں جانتا۔طلبہ یونین صرف سیاست نہیں، تربیت بھی ہے.طلبہ یونین کے انتخابات کو صرف سیاست کے چشمے سے دیکھنا شاید اس پورے معاملے کو محدود کر دینا ہے۔انتخابات ایک طالب علم کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔وہ اپنی بات کہنا سیکھتا ہے۔دوسروں کی بات سننا سیکھتا ہے۔ اختلافِ رائے کا احترام سیکھتا ہے۔اپنی شکست قبول کرنا سیکھتا ہے۔کامیابی کے بعد مخالف کا احترام کرنا سیکھتا ہے۔ اپنے ساتھی طلبہ کے مسائل کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری اٹھانا سیکھتا ہے۔یہی تو قیادت کی ابتدائی تربیت ہے۔دنیا کی بڑی جمہوریتیں صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتیں، ان کی بنیاد ایسے ہی چھوٹے چھوٹے جمہوری تجربات سے پڑتی ہے۔

انتظامیہ کی تشویش اپنی جگہ، طلبہ کی آواز بھی اپنی جگہ

یہ بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ کیمپس کا امن و امان، تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، انتخابی ضابطۂ اخلاق اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے طلبہ کو محفوظ رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔اگر انتخابات کے دوران تشدد، گروہ بندی، بیرونی مداخلت یا تعلیمی ماحول خراب ہونے کا خدشہ ہو تو اس پر انتظامیہ کا فکر مند ہونا فطری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان خدشات کا حل انتخابات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنا ہے یا پھر ایسا نظام بنانا ہے جس میں انتخابات بھی ہوں اور نظم و ضبط بھی برقرار رہے؟ ضابطے سخت کیے جا سکتے ہیں۔ انتخابی اخراجات کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ بیرونی افراد کی مداخلت روکی جا سکتی ہے۔تشدد کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اور تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف ضابطے کے مطابق قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام اقدامات کے ساتھ طلبہ کو ان کے جمہوری حقِ نمائندگی کا راستہ بھی دکھایا جا سکتا ہے۔

اے ایم یو اپنے طلبہ کے پروں کو سہارا بنے

یہاں ایک بنیادی بات کہنے کی ضرورت ہے۔ اے ایم یو کے طلبہ اس جامعہ کا مستقبل ہیں۔آج وہ کلاس روم میں بیٹھے ہیں، کل وہ دنیا کے مختلف حصوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام روشن کریں گے۔ ان میں سے کون کہاں پہنچے گا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ان کے حوصلوں کو دبانے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی طالب علم تعلیم کے ساتھ ساتھ قیادت کا تجربہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ذمہ داری کا احساس سکھایا جائے، اسے آئین و قانون کا شعور دیا جائے، اسے ضابطے کا پابند بنایا جائے، لیکن اس کی پرواز کے راستے میں دیوار نہ کھڑی کی جائے۔ سرسید احمد خاں کی میراث ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ 17 اکتوبر قریب ہے۔ ہر سال اس دن علی گڑھ اپنے عظیم محسن سرسید احمد خاں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ سرسید نے ایک ایسے وقت میں مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کا خواب دیکھا جب حالات انتہائی مشکل تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو آگے بڑھنے، سوچنے، سوال کرنے، علم حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کو خود تعمیر کرنے کی ترغیب دی۔ سرسید کا خواب صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں تھا۔وہ انسان تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ایسے انسان جو علم رکھتے ہوں۔شعور رکھتے ہوں۔اپنی رائے رکھتے ہوں۔اپنے ملک اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔تو پھر آج اگر علی گڑھ کا ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کر رہا ہے، اپنی نمائندگی چاہتا ہے اور جمہوری طریقے سے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہتا ہے تو کیا اس آواز کو سنجیدگی سے نہیں سنا جانا چاہیے؟ 17 اکتوبر سے پہلے ایک تاریخی تحفہ دیں۔ سرسید ڈے صرف پھول چڑھانے اور تقریریں کرنے کا دن نہ ہو۔ اس سال اگر 17 October سے پہلے اے ایم یو انتظامیہ طلبہ کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرے، ان کے سوالات سنے، انتخابی عمل کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرے اور قواعد و ضوابط کے مطابق طلبہ یونین انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوئی واضح قدم اٹھائے تو یہ سرسید احمد خاں کو ایک عملی خراجِ عقیدت بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سرسید کو خراجِ عقیدت صرف الفاظ سے نہیں، ان کے خوابوں کو زندہ رکھ کر بھی دیا جا سکتا ہے۔

ان کی آواز کو ہندوستان کی آنے والی آواز بننے دیجیے

آج یہ نوجوان صرف اپنے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔کل یہی نوجوان ہندوستان کے مختلف شعبوں میں اپنی آواز بن سکتے ہیں۔کسی کی آواز پارلیمنٹ تک پہنچ سکتی ہے۔کسی کی آواز عدالت تک پہنچ سکتی ہے۔کسی کی آواز صحافت میں گونج سکتی ہے۔کسی کی آواز درس گاہوں میں سنائی دے سکتی ہے۔کسی کی آواز سماجی خدمت کے میدان میں پہچانی جا سکتی ہے۔ کسی کی آواز صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ، وزیراعظم بننے خواب پورا کر سکتی ہے۔ یہی نوجوان ہندوستان کا آنے والا مستقبل ہیں۔ اس لیے ان کی آواز کو خاموش کرنے کے بجائے اسے سمت دینے کی ضرورت ہے۔ان کی پرواز کو روکنے کے بجائے انہیں آسمان دکھانے کی ضرورت ہے۔یہ شعر آج کے طلبہ سے مخاطب محسوس ہوتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

پروں کو کھول زمانہ اڑان دیکھتا ہے

زمیں پہ بیٹھ کے کیا آسمان دیکھتا ہے

ملا ہے حسن تو اس حسن کی حفاظت کر

سنبھل کے چل تجھے سارا جہان دیکھتا ہے

یہ صرف شعر نہیں، آج کے طالب علم کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔

1- پَر کھولو، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔

2-پرواز کرو، مگر قانون کے دائرے میں۔

3- آسمان کو دیکھو، مگر زمین سے اپنا رشتہ نہ توڑو۔

4- اور یاد رکھو کہ تمہاری ہر حرکت کو پورا زمانہ دیکھ رہا ہے۔

اے ایم یو کے طلبہ کے پاس علم ہے، صلاحیت ہے، تاریخ ہے اور علی گڑھ کی شناخت ہے۔ انہیں صرف ایک موقع درکار ہے۔

اے ایم یو انتظامیہ سے ایک مؤدبانہ اپیل

اے ایم یو انتظامیہ سے یہ اپیل کسی محاذ آرائی کے جذبے سے نہیں بلکہ ایک طالب علم اور جامعہ کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانی چاہیے۔ طلبہ کو دشمن نہ سمجھا جائے۔انتظامیہ کو بھی دشمن نہ سمجھا جائے۔ دونوں ایک ہی ادارے کا حصہ ہیں۔انتظامیہ نظم و ضبط کی محافظ ہے اور طلبہ اس جامعہ کا مستقبل۔دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں، ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ اگر طلبہ کی جائز تشویش ہے تو اسے سنا جائے۔اگر انتظامیہ کی تشویش ہے تو طلبہ کو سمجھایا جائے۔ اگر انتخابات کے لیے نئے ضابطے درکار ہیں تو ان پر بات کی جائے۔اگر سکیورٹی کے انتظامات درکار ہیں تو انہیں مضبوط کیا جائے۔ لیکن مکالمے کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ آج فیصلہ صرف انتخابات کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے۔نسلیں بدل جاتی ہیں۔طلبہ Amu سے فارغ ہو کر دنیا کے مختلف حصوں میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن Amu میں گزارے ہوئے دن اور وہاں ملنے والے مواقع زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔آج کے طلبہ بھی چند برس بعد یہاں سے نکل جائیں گے۔پھر کوئی شاید مڑ کر دیکھے اور کہے گا: ہم نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی تھی، ہم نے اپنے خواب دیکھے تھے، ہم نے اپنی آواز بلند کی تھی، اور ہمیں اپنے مستقبل کی تعمیر کا موقع ملا تھا۔ یہ احساس کسی بھی طالب علم کے لیے بہت قیمتی ہے۔ اس لیے آج ضرورت ہے کہ علی گڑھ اپنے طلبہ کے ساتھ کھڑا ہو۔ ان کی اصلاح کریں ، ان کی رہنمائی کریں ، انہیں قانون اور نظم و ضبط کا پابند بنائے، لیکن ان کے خوابوں کو زندہ رہنے دے۔ پروں کو مت کاٹیے، انہیں پرواز دیجیے۔ کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ آج کا یہ خاموش طالب علم کل کہاں کھڑا ہوگا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ آج کی یہ آواز کل کتنی بڑی آواز بن جائے گی۔کسی کو نہیں معلوم کہ آج ڈک پوائنٹ پر بیٹھا ہوا نوجوان کل ہندوستان کے کس گوشے میں علی گڑھ کا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نام روشن کرے گا۔ اور کسی کو نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے کس نوجوان کے مقدر میں کون سا مقام لکھ رکھا ہے۔

اختتامی تجزیہ :- سرسید کے علی گڑھ سے ایک امید 17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس چمن کے نوجوان بھی یاد رکھے جائیں۔ یہی نوجوان اس چمن کے پھول ہیں۔ یہی آنے والے وقت کے چراغ ہیں۔ یہی علی گڑھ کی پہچان کو آگے لے جانے والے ہیں۔انہیں پرواز کرنے دیجیے۔ان کی پرواز کو سمت دیجیے۔ان کے خوابوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ان کی آواز کو سنیے۔ اور اگر تمام قانونی و انتظامی تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں تو طلبہ یونین کے انتخابات کے بارے میں واضح فیصلہ اور انتخابی عمل کی راہ متعین کیجیے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب علی گڑھ ایک مرتبہ پھر اپنے نوجوانوں سے کہے: تم ہمارے مستقبل ہو، ہم تمہیں روکنے نہیں، سنوارنے آئے ہیں۔ اور شاید یہی سرسید احمد خاں کے نام سب سے خوبصورت خراجِ عقیدت ہوگا۔ پروں کو کھول کہ زمانہ اُڑان دیکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Bharat Express

Recent Posts

HM Amit Shah Hurugram Visit: گروگرام میں امت شاہ کی ریلی سے پہلے لیزر ویلی گراؤنڈ پہنچے بی جے پی لیڈر، سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا لیا جائزہ

گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…

55 minutes ago

Gurugram Seva Jyoti Yatra: گروگرام میں 7 اکتوبر کو ’سیوا جیوتی یاترا‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہوں گے مہمان خصوصی

ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…

2 hours ago