ماہر امور خارجہ وائل عواد نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ وہ چین کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات پر سو فیصد اتفاق رائے ممکن نہیں اور اختلافات برقرار رہیں گے، تاہم بات چیت کے ذریعے ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کو بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ دورہ دو وجوہات کی بنا پر انتہائی اہم ہے۔ ایک تو باہمی مسائل کو حل کرنا، خاص طور پر سرحد سے متعلق معاملات، اور دوسرا شی جن پنگ کو برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینا، کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔‘‘
بھارت-چین تعلقات میں استحکام پر زور
وائل عواد نے کہا کہ بھارت کی موجودہ سفارتی کوششوں سے واضح ہے کہ وہ چین کے ساتھ مستحکم اور عملی تعلقات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس سے سرحدی کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بھارت-امریکا تعلقات پر بھی تشویش
بھارت اور امریکا کے تعلقات پر وائل عواد نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے رشتے بتدریج معمول پر آنے کی سمت بڑھ رہے ہیں، تاہم حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر اب دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بھارت امریکا کے لیے ایک اہم شراکت دار اور اثاثہ ہے۔
ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر سوال
ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر ماہرامور خارجہ وائل عواد نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پڑوسی ممالک اور روایتی اتحادیوں پر بھی محصولات عائد کیے جانے سے بھارت کے لیے تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا بھارت پر بھی ٹیرف کے معاملے میں دباؤ برقرار رکھتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔انہوں نے کینیڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی دباؤ کی پالیسی سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے بلکہ اس کے نتیجے میں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف پر وائل عواد نے کہا کہ امریکی صدر کی پالیسی دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا رہی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے انداز کو ’’کاؤ بوائے ڈپلومیسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں کے تحفظ پر توجہ دینے کے بجائے انہیں امریکی علاقہ قرار دینے کا دعویٰ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کے وسائل اور اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش عالمی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔