نئی دہلی : مہاراشٹر کے امراوتی ضلع میں پیر کی علی الصبح ایک سرکاری اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں اچانک آگ لگنے سے تین معصوم بچوں کی موت ہوگئی، جبکہ چھ دیگر نوزائیدہ زخمی ہوگئے۔ دل دہلا دینے والا یہ حادثہ امراوتی کے سرکاری ویمنز اسپتال میں صبح تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا۔ واقعے کے بعد اسپتال میں افراتفری مچ گئی اور طبی عملے نے فوری طور پر بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔اطلاعات کے مطابق اسپتال کی تیسری منزل پر قائم نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ، یعنی NICU، میں اچانک وینٹی لیٹر میں دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ آگ تیزی سے پھیلنے لگی اور دھویں سے پورا وارڈ متاثر ہوگیا۔ حادثے کے وقت یہاں متعدد نوزائیدہ بچے زیر علاج تھے۔ بعض بچوں کے ہاتھ اور پیروں کے جھلسنے کی بھی اطلاع ہے۔آگ لگتے ہی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو وینٹی لیٹرز اور دیگر طبی آلات سے نکالنا شروع کردیا۔ شدید زخمی بچوں کو فوری طور پر قریب واقع دوسرے سرکاری سپر اسپیشلٹی سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ تین بچوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں بچایا نہیں جا سکا۔
تیسری منزل پر تین کمروں میں 39 بچوں کی گنجائش
امراوتی کے ضلع ویمنز اسپتال کی تیسری منزل پر نوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے تین کمرے قائم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر کمرے میں 13 نوزائیدہ بچوں کے علاج کی گنجائش ہے، یعنی مجموعی طور پر 39 بچوں کو یہاں رکھا جاسکتا ہے۔ حادثے کے وقت NICU میں 12 بچے زیر علاج تھے۔ آگ انہی کمروں میں سے ایک میں لگی، جس کے بعد عملے نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ، یعنی SNCU، میں عموماً قبل از وقت پیدا ہونے والے، کم وزن اور سنگین بیماریوں میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ یونٹ تقریباً ایک سال قبل ہی شروع کیا گیا تھا۔
آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع
حادثے کے بعد پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وینٹی لیٹر میں دھماکا کس وجہ سے ہوا اور آیا اس میں کوئی تکنیکی خرابی موجود تھی یا نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جارہی ہے کہ طبی آلات کی بروقت جانچ اور دیکھ بھال کی جارہی تھی یا نہیں۔اس واقعے نے اسپتال کی فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد فائر سیفٹی نظام فوری طور پر کیوں فعال نہیں ہوا اور کیا اسپتال میں حفاظتی انتظامات مطلوبہ معیار کے مطابق تھے؟ پولیس ان تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے تاکہ تین معصوم بچوں کی موت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے
بھارت ایکسپریس اردو
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…