قومی

Modi Govt’s Challenges: سڑکیں دھنس رہی ہیں، فلائی اوور گر رہے ہیں! گڑگاؤں سے جموں و کشمیر تک تعمیراتی معیار پر بڑے سوالات

ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر مسلسل بڑے پیمانے پر اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ نئے ہائی ویز، ایکسپریس ویز، فلائی اوور اور چوڑی سڑکیں ترقی کی تصویر پیش کر رہی ہیں، لیکن دوسری جانب ان کی تعمیر اور دیکھ بھال سے متعلق واقعات بھی سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ کہیں سڑک دھنس رہی ہے، کہیں فلائی اوور کا حصہ گر رہا ہے تو کہیں نئی تعمیر شدہ سڑک کچھ ہی عرصے میں گڑھوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ بارش کے دوران ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ سوال صرف تعمیراتی معیار کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کی جواب دہی کا ہے، جو کسی منصوبے کو ڈیزائن سے لے کر تعمیر اور دیکھ بھال تک منظوری دیتا ہے۔

گڑگاؤں سے جموں و کشمیر تک ایک جیسی تصویر

اگست 2026 میں گڑگاؤں کے مصروف اِفکو چوک کے قریب دہلی-جے پور ہائی وے کی سروس روڈ کا ایک حصہ شدید بارش کے بعد دھنس گیا۔ سڑک پر تقریباً 10 سے 15 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، سیوریج لائن میں لیکیج کے باعث مٹی بہہ جانے سے سڑک دھنس گئی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ سڑک کی تعمیر اور زیرِ زمین سیوریج نیٹ ورک کے درمیان ہم آہنگی کتنی اہم ہے۔

کانپور کے جاجمئو علاقے میں بھی سڑک پر اچانک تقریباً 3 میٹر چوڑا اور 18 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ بارش کا پانی اس میں داخل ہو گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ وہیں جموں و کشمیر کے سانبا ضلع میں زیرِ تعمیر فلائی اوور کا ایک حصہ گرنے سے ایک مزدور کی موت ہو گئی۔ گجرات میں قومی شاہراہوں پر دراڑوں اور گڑھوں کی شکایات کے بعد ٹھیکیداروں کے خلاف جرمانے کی کارروائی کی گئی۔ لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے جیسے نئے منصوبے میں بھی تعمیر کے کچھ عرصے بعد سڑک کی سطح سے متعلق مسائل سامنے آنے کی اطلاعات ملیں۔

مختلف ریاستوں میں پیش آنے والے یہ واقعات اگرچہ الگ الگ حالات میں ہوئے ہیں، لیکن ان کے پیچھے معیار، ڈیزائن، نکاسیٔ آب، تعمیر اور نگرانی سے متعلق سوالات تقریباً یکساں ہیں۔

صرف ٹھیکیدار ہی نہیں، نگرانی کا نظام بھی ذمہ دار

سڑک یا فلائی اوور کا معیار صرف ٹھیکیدار پر منحصر نہیں ہوتا۔ ڈی پی آر تیار کرنے والے کنسلٹنٹس، ڈیزائن ماہرین، معیار کی جانچ کرنے والی ایجنسیاں اور تعمیراتی کام کی نگرانی کرنے والے انجینئر بھی اس پورے عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں کسی منصوبے میں خامی سامنے آنے پر صرف ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرنا کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔

سیوریج، پانی کی پائپ لائن اور ڈرینیج کے نظام میں لاپروائی، ناقص بیک فلنگ، غیر معیاری مواد اور معیار کی جانچ میں کمی سڑک کی مضبوطی کو متاثر کر سکتی ہے۔ کئی مرتبہ سب سے کم بولی، یعنی ’ایل-1‘ کی بنیاد پر ٹھیکہ دینے کے نظام میں لاگت کم رکھنے کا دباؤ بھی معیار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سب کنٹریکٹنگ کی کئی تہیں اس جواب دہی کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

کارروائی صرف ٹھیکیدار تک کیوں محدود؟

سب سے بڑا سوال سرکاری افسران اور نگرانی کے نظام کی جواب دہی سے متعلق ہے۔ کسی منصوبے میں سنگین خامی سامنے آنے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے، رپورٹ تیار ہوتی ہے اور کئی معاملات میں بات آگے نہیں بڑھ پاتی۔

اگر تعمیر میں تکنیکی معیارات کو نظر انداز کیا گیا ہے تو یہ طے ہونا چاہیے کہ اسے بروقت روکنے اور خامی دور کرنے کی ذمہ داری کس افسر کی تھی۔ ٹھیکیداروں پر جرمانے یا انہیں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ، لاپروائی ثابت ہونے پر متعلقہ افسران کی محکمانہ جواب دہی بھی طے کی جانی چاہیے۔ آخرکار عوام سڑکوں کی تعمیر کے لیے ادائیگی کرتے ہیں اور انہیں محفوظ اور پائیدار بنیادی ڈھانچہ ملنا چاہیے۔

تیز تعمیر کی دوڑ میں معیار پیچھے نہ چھوٹے

ماہرین کے مطابق سڑکوں کی تعمیر میں مسئلہ صرف تعمیراتی مواد کا نہیں بلکہ ڈیزائن، نکاسیٔ آب، مٹی کی صورتحال، تعمیراتی تکنیک اور دیکھ بھال سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ کسی منصوبے کی کامیابی کو صرف اس بنیاد پر نہیں پرکھا جانا چاہیے کہ کتنے کلومیٹر سڑک یا کتنے فلائی اوور مقررہ وقت پر مکمل ہوئے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ بنیادی ڈھانچہ کتنے برسوں تک محفوظ اور پائیدار رہتا ہے۔

حل موجود ہے، ضرورت صرف جواب دہی کی ہے

سڑکوں کی تعمیر کا معیار بہتر بنانے کے لیے آزادانہ معیار کی جانچ کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تعمیراتی مواد کی جانچ مستند لیبارٹریوں میں کرائی جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ ٹھیکیدار کے ساتھ ساتھ نگرانی کرنے والے افسران کی بھی انفرادی جواب دہی طے کی جائے۔

سنگین لاپروائی کی صورت میں معطلی، مالی وصولی اور قانون کے مطابق کارروائی کی دفعات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ ڈی پی آر میں مقامی جغرافیائی اور زیرِ زمین حالات، بارش اور ڈرینیج کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔ سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ سیوریج اور نکاسیٔ آب کے نظام میں بھی مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

ٹھیکوں، معائنہ رپورٹس اور معیار کی جانچ کو آن لائن دستیاب کرانے سے شفافیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سڑک کی پوری مدتِ حیات کے لیے دیکھ بھال کا بجٹ اور ذمہ داری بھی پہلے سے طے ہونی چاہیے۔

پائیدار تعمیر ہی حقیقی ترقی کی پہچان

بھارت بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ایسے میں صرف سڑک کی لمبائی، منصوبے کی لاگت یا افتتاح کی تاریخ کو کامیابی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پائیدار، محفوظ اور معیاری تعمیر ہی حقیقی ترقی کی پہچان ہے۔

جب تک ٹھیکیدار کے ساتھ ڈیزائن، نگرانی اور انتظامی نظام کی جواب دہی بھی طے نہیں کی جائے گی، تب تک بارش میں دھنسنے والی سڑکیں اور کمزور تعمیراتی نظام سوالات کی زد میں رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

5 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

6 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

7 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

8 hours ago