بین الاقوامی

Pitroda Backs Mamdani Remarks on RSS: ’’نیویارک کے میئر کی باتوں میں کچھ سچائی ہے..‘‘، سیم پترودا نے زوہران ممادانی کے آر ایس ایس پر کیے تبصروں کی حمایت کی

نیویارک: کانگریس کے سینئر لیڈر سیم پترودا نے نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممادانی کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر کی گئی تنقید کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممادانی کی باتوں میں ’کچھ سچائی‘ ہے اور یہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ حالانکہ، پترودا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا نیویارک میں منعقدہ پروگرام ایک نجی تقریب تھی اور ہر تنظیم کو اس طرح کا پروگرام منعقد کرنے کا حق حاصل ہے۔ آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پترودا نے کہا، ’’میں جانتا ہوں کہ نیویارک کے میئر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ ایک نجی پروگرام تھا۔ ہر شخص کو اپنا نجی پروگرام منعقد کرنے کا حق ہے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

’’میں سیکولر بھارت پر یقین رکھتا ہوں‘‘

جب ان سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ کیا وہ آر ایس ایس کے بارے میں ممادانی کی رائے سے متفق ہیں تو پترودا نے کہا کہ یہ میئر کے ذاتی خیالات ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے بھارت کے حوالے سے اپنے نظریات بیان کیے۔ انہوں نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ میں ایسے بھارت پر یقین رکھتا ہوں جہاں مذہب، ذات، زبان یا ریاست کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں اس بھارت پر یقین رکھتا ہوں جس کا تصور ہمارے بانی لیڈران نے کیا تھا۔ میں مساوی حقوق، سچائی، اعتماد، محبت اور انصاف پر یقین رکھتا ہوں، نفرت پر نہیں۔‘‘

’’جس بھارت میں ہم بڑے ہوئے، وہ سب کا بھارت تھا‘‘

پترودا نے کہا کہ جس بھارت میں وہ بڑے ہوئے، وہ تمام برادریوں کا بھارت تھا۔ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میری پیدائش 1942 میں برطانوی دور حکومت میں ہوئی تھی۔ میں ایک چھوٹے سے قبائلی گاؤں میں پلا بڑھا۔ ہمارے سامنے ایک مسلم خاندان رہتا تھا، بائیں جانب جین خاندان تھا، دائیں طرف سکھ خاندان تھا اور پیچھے قبائلی اوڑیہ برادری کے لوگ رہتے تھے۔ ہم سب امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے تھے۔ کوئی تنازع نہیں تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آج تنازعات میں کافی اضافہ ہوا ہے، نفرت بڑھی ہے اور خوف بھی بڑھا ہے۔ اسی لیے انہیں لگتا ہے کہ ممادانی نے جو کہا، اس میں کچھ سچائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اور دیگر عوامی اداروں پر آر ایس ایس کے اثر و رسوخ پر بھی سوال اٹھائے۔

مسلمان اور عیسائی خود بتائیں گے سچائی

انہوں نے کہا، ’’آپ کسی عام مسلمان یا عیسائی سے پوچھیں کہ گزشتہ 15 برسوں میں انہوں نے کیسا محسوس کیا ہے، ان کے گرجا گھروں اور برادریوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، وہ آپ کو خود بتائیں گے۔‘‘ پترودا نے آر ایس ایس کے بیانات اور اس کے کام کاج کے درمیان فرق ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی باتیں کچھ اور کہتی ہیں اور ان کے کام کچھ اور ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اسی لیے لوگوں کے لیے آر ایس ایس کو جاننا اچھا ہے، لیکن میں ان کی باتوں سے زیادہ ان کے کاموں پر توجہ دوں گا۔ میرے لیے عمل الفاظ سے زیادہ اہم ہیں۔‘‘

موہن بھاگوت سے ملنے کا موقع نہیں ملا

پترودا نے بتایا کہ ان کی کبھی موہن بھاگوت سے ملاقات نہیں ہوئی، لیکن وہ آر ایس ایس کے کچھ ارکان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ایسے لوگوں سے دوستی بھی رکھتے ہیں جن کی سیاسی یا نظریاتی سوچ ان سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ میں تنوع کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن جب بات تشدد تک پہنچ جاتی ہے تو مجھے مسئلہ ہوتا ہے۔ جب نفرت بڑھتی ہے تو مجھے مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر بات چیت میں احترام اور وقار برقرار رہے تو مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘‘

پترودا نے کہا کہ آر ایس ایس سمیت تمام بھارتی تنظیموں کو بھارت کے بنیادی اصولوں کی طرف واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں کہوں گا کہ بھارت کی کوئی بھی تنظیم، چاہے آر ایس ایس ہو یا کوئی اور، اسے اس بنیادی نظریے کی طرف واپس آنا چاہیے جس کا تصور ہمارے بانی لیڈران نے کیا تھا۔ بھارت کا بنیادی نظریہ کیا تھا؟ یہی کہ بھارت سب کا ہے۔ بھارت ہندوؤں، مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، دلتوں اور ہر برادری کا ہے۔‘‘

1925 میں قائم ہوا تھا آر ایس ایس

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بنیاد 1925 میں ناگپور میں رکھی گئی تھی۔ تنظیم نے 2025 میں اپنے قیام کی 100ویں سالگرہ مکمل کی۔ آر ایس ایس خود کو ایک سماجی اور ثقافتی تنظیم قرار دیتا ہے، جو قومی خدمت اور کردار سازی کے لیے کام کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

6 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

7 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

8 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

9 hours ago