قومی

Rahul on Amit Shah’s debate offer: امت شاہ کے لیکچر میں کوئی دلچسپی نہیں، طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کا جواب چاہتی ہے اپوزیشن: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی نے بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں طلبہ کے احتجاج اور مبینہ پولیس کارروائی پر تفصیلی بحث کی پیشکش کے باوجود اپوزیشن کے احتجاج سے پیچھے نہ ہٹنے کے اشارے دیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن امت شاہ کا ’’لیکچر‘‘ سننے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ وہ طلبہ کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر جواب اور جواب دہی چاہتی ہے۔

طلبہ پر فائرنگ کا حکم کس نے دیا: راہل گاندھی؟

پارلیمنٹ کمپلیکس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ اسے امت شاہ کا لیکچر نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’ہم سے مراد ملک کی نوجوان نسل ہے۔ طلبہ کو کس نے گولی ماری؟ طلبہ کو کیل لگی لاٹھیوں سے مارنے کا حکم کس نے دیا؟ کیا امت شاہ نے ہمارے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا حکم امت شاہ نے دیا تھا تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ گزشتہ 20 دنوں سے وزیر داخلہ پارلیمنٹ سے غائب ہیں اور ان میں ایوان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

حکومت ہر پہلو پر بحث کے لیے تیار: امت شاہ

اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ پیپر لیک سے متعلق طلبہ کے احتجاج کے ہر پہلو پر تفصیلی بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے تک اسپیکر کو خط دے تاکہ بحث دوپہر 3 بجے سے شروع کی جا سکے۔ امت شاہ نے کہا کہ وہ خود پارلیمنٹ میں ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو بھی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت طلبہ کے احتجاج سے متعلق تمام معاملات پر بحث کے لیے تیار ہے۔

’’پارلیمنٹ چلنے نہیں دے رہے، پھر میں وہاں کیا کروں؟‘‘

امت شاہ نے راہل گاندھی کے اس الزام کو مسترد کیا کہ وہ پارلیمنٹ سے غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے بعد سے وہ مسلسل پارلیمنٹ آ رہے ہیں اور اپنے چیمبر میں موجود رہتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر اپوزیشن دونوں ایوانوں کی کارروائی چلنے نہیں دے رہی تو کسی کے پارلیمنٹ جانے سے کیا ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن سے ایک بار پھر بحث کے لیے وقت طے کرنے اور اسپیکر کو خط دینے کی اپیل کی۔ طلبہ کے احتجاج اور مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ٹکراؤ کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار متاثر ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ حکومت طلبہ کے خلاف مبینہ طور پر طاقت کے استعمال پر جواب دے اور اس کی ذمہ داری طے کی جائے۔

راہل گاندھی اور امت شاہ آمنے سامنے

اس سے قبل اپوزیشن کے رہنماؤں نے مرکزی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین نے ’’امت شاہ جواب دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے دارالحکومت دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی کو اپنی تنقید کا مرکزی موضوع بنایا۔ طلبہ کے احتجاج سے متعلق معاملے پر راہل گاندھی اور امت شاہ کے بیانات سے واضح ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مسئلے پر اختلاف برقرار ہے۔ ایک طرف حکومت تفصیلی پارلیمانی بحث کے ذریعے معاملے پر جواب دینے کی پیشکش کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن مباحثے سے پہلے مبینہ پولیس کارروائی پر براہ راست جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

39 minutes ago

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…

2 hours ago