قومی

Gautam Adani ahead of Independence Day: ڈی او جے کیس سے وکست بھارت تک: 80ویں یوم آزادی سے قبل گوتم اڈانی نے اعتماد، قیادت اور قوم کی تعمیر پر کیا اپنے خیالات کا اظہار

احمد آباد: ہندوستان کے 80ویں یوم آزادی کی تیاریوں کے درمیان اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے ’’اپنی بات، اپنوں کے ساتھ‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں اعتماد، اقدار، قیادت اور قوم کی تعمیر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا یہ خطاب 10 اگست 2026 کو نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی امریکی ضلعی عدالت کی جانب سے امریکی محکمہ انصاف کے ان کے خلاف فوجداری مقدمے کو خارج کیے جانے کے فیصلے کے چند روز بعد سامنے آیا۔ گوتم اڈانی نے قانونی معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تجربے نے ان میں فتح کے احساس سے زیادہ عاجزی پیدا کی، قانون کی حکمرانی پر ان کا اعتماد مزید مضبوط کیا اور ان ملازمین، شراکت داروں اور خیر خواہوں کے تئیں تشکر میں اضافہ کیا جو مشکل ترین دور میں بھی گروپ کے ساتھ کھڑے رہے۔

ہنڈن برگ الزامات اور ڈی او جے کیس سے کیا سیکھا؟

ہنڈن برگ ریسرچ کے الزامات اور اس کے بعد امریکی محکمہ انصاف (ڈپارٹمنٹ آف جسٹس، DOJ) کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے اڈانی نے کہا کہ مشکلات انسان یا ادارے کے کردار کو متعین نہیں کرتیں بلکہ اسے ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق دیرپا اعتماد وعدے پورے کرنے، اقدار پر قائم رہنے، قانونی عمل کا احترام کرنے اور مشکل حالات میں بھی درست راستہ اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے اڈانی گروپ کی جانب سے 20 ہزار کروڑ روپے کے فالو آن پبلک آفر (FPO) کو واپس لینے کے فیصلے کو اپنی سوچ کی نمایاں مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق گروپ کے پاس قانونی طور پر اس پیشکش کو آگے بڑھانے کا حق تھا، لیکن اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اڈانی نے کہا، ’’اعتماد کسی بھی قانونی حق سے بڑا ہے۔‘‘ ان کے مطابق قانون حقوق فراہم کرتا ہے، لیکن اقدار یہ طے کرتی ہیں کہ ان حقوق کو کب استعمال کیا جانا چاہیے۔ گوتم اڈانی نے سمندر منتھن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کردار نہیں بناتیں بلکہ کردار کو سامنے لاتی ہیں۔ ہنڈن برگ الزامات اور بعد ازاں ڈی او جے کی کارروائی گروپ کے لیے اسی طرح کا ایک امتحان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات نے گروپ کے اصولوں کو تبدیل نہیں کیا بلکہ صبر، قانونی عمل پر اعتماد اور شدید عوامی توجہ کے باوجود ثابت قدم رہنے کی اہمیت کو مزید مضبوط کیا۔ ان کے مطابق اڈانی گروپ کی کامیابی صرف اس انفراسٹرکچر سے نہیں ناپی جاتی جو وہ تعمیر کرتا ہے، بلکہ اس اعتماد سے بھی ہوتی ہے جو ملازمین، سرمایہ کاروں، قرض دہندگان، شراکت داروں اور برادریوں کے درمیان حاصل کیا جاتا ہے۔

مشکل دور میں بھی ملازمین نے ذمہ داریاں نبھائیں

گوتم اڈانی نے کہا کہ امریکہ میں قانونی کارروائی کے دوران گروپ نے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی، عدالتی عمل کا احترام کیا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہا۔ ان کے مطابق اس عرصے میں گروپ نے مضبوط کاروباری کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اہم انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کی اور مختلف شعبوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کی۔ انہوں نے اڈانی پریوار کے ملازمین، کارکنوں، سپلائرز، کنٹریکٹرز، وینڈرز اور شراکت داروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب عوام کی توجہ قانونی کارروائی پر مرکوز تھی، اس وقت بھی گروپ سے وابستہ افراد خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے۔ اڈانی کے مطابق انہی لوگوں کی مسلسل محنت نے گروپ کے مشکل ترین ابواب میں سے ایک کو ترقی کے مضبوط ترین ادوار میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔ گوتم اڈانی نے ملک بھر میں ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہیں وہ ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن جنہوں نے مشکل وقت میں حوصلہ افزائی، دعاؤں اور حمایت کے ذریعے ساتھ دیا۔ انہوں نے گروپ پر سوال اٹھانے اور تنقید کرنے والوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تنقید، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، خود احتسابی اور بہتری کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اڈانی گروپ کی کامیابیوں کے پیچھے کام کرنے والے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر کامیابی کی اصل معنویت ان لوگوں کی محنت سے پیدا ہوتی ہے جو اسے ممکن بناتے ہیں۔ گوتم اڈانی نے کھاوڑہ رینیوایبل انرجی پارک میں کام کرنے والے نوجوان انجینئر امیت کمار کے ساتھ اپنی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس گفتگو نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ ترقی کو صرف عالمی معیار کے انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ اس امید، وقار اور زندگیوں میں آنے والی تبدیلی سے بھی ناپا جانا چاہیے جو ایسے منصوبوں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔

80ویں یومِ آزادی سے ’وکست بھارت‘ تک

ہندوستان کے 80ویں یومِ آزادی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اڈانی نے کہا کہ یہ موقع ملک کی کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہر نسل کی ذمہ داریوں پر غور کرنے کا بھی ہے۔ انہوں نے آزادی کی صد سالہ تقریب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں تاریخ صرف اس بات کو یاد نہیں رکھے گی کہ ہندوستان نے کتنا انفراسٹرکچر تعمیر کیا، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ملک نے کتنے مواقع پیدا کیے، کتنی برادریوں کو مضبوط کیا اور کتنی امیدیں پیدا کیں۔ گوتم اڈانی نے تین لاکھ سے زائد ملازمین اور شراکت داروں پر مشتمل اڈانی پریوار سے اپیل کی کہ گزشتہ دو برس کے تجربات سے عاجزی، دیانت داری اور نئے عزم کے ساتھ سبق حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملازم اور شراکت دار کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہماری نسل کو کس بات کے لیے یاد رکھا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا مقصد صرف عالمی معیار کے کاروبار قائم کرنا نہیں بلکہ ایسے ادارے تشکیل دینا ہونا چاہیے جو افراد کے بعد بھی قائم رہیں، مواقع کو وسعت دیں اور ایک مضبوط و خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اقدار کی بنیاد پر قائم اور خدمت کے جذبے سے سرشار ایسے ادارے ہی ہندوستان کے مشترکہ ’وکست بھارت‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

45 seconds ago

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…

2 hours ago

UPITS 2026: یو پی آئی ٹی ایس 2026، 25 ستمبر سے گریٹر نوئیڈا میں سجے گا اتر پردیش کا بڑا تجارتی میلہ، وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے افتتاح

پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…

3 hours ago