قومی

Rahul Gandhi mourns veteran Congress leader Mohsina Kidwai’s demise: کانگریس کی سینئر لیڈر محسنہ قدوائی کا 94 برس کی عمر میں انتقال، شام 5 بجے ہوگی تدفین

نئی دہلی :کانگریس کی سینئرلیڈر اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا آج انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کچھ دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھیں، جہاں انہوں نے صبح تقریباً 4 بجے 94 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔ انہیں 8 اپریل کو طبیعت بگڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ کانگریس پارٹی کی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر محترمہ محسنہ قدوائی کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چھ دہائیاں ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔انہوں نے مزید کہا وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی طویل عرصے تک رکن رہیں اور کئی برسوں تک کانگریس ورکنگ کمیٹی کی بھی رکن رہیں۔ پارٹی کے مشکل ترین دور میں بھی وہ رہنمائی کرتی رہیں۔کھڑگے نے کہا کہ ان کا انتقال کانگریس پارٹی اور ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

راہل گاندھی نے بھی ‘ایکس’ پر لکھا کہ سابق مرکزی وزیر اور سابق رکن پارلیمنٹ محسنہ قدوائی جی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ کانگریس پارٹی کی نہایت سینئر اور وفادار رہنما تھیں، جن کی پوری زندگی عوامی خدمت کی مثال رہی ہے۔

شام 5 بجے ہوگی تدفین

سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کی میت نوئیڈا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کے لیے رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد انہیں دہلی کے نظام الدین قبرستان کے قریب واقع قبرستان لے جایا جائے گا، جہاں آج شام 5 بجے انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

کم عمری میں سیاست میں قدم

محسنہ قدوائی کی پیدائش یکم جنوری 1932 کو بارہ بنکی میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی ریاستی سیاست میں فعال ہو گئیں۔ بعد ازاں وہ قومی سیاست میں داخل ہوئیں اور اپنی الگ پہچان بنائی۔وہ کئی مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں اور میرٹھ پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کی۔ بعد میں وہ 2004 سے 2016 تک چھتیس گڑھ سے راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ اس دوران انہوں نے پارلیمنٹ میں مختلف اہم موضوعات پر سرگرمی سے حصہ لیا اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

کئی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالی

اپنے طویل سیاسی کیریئر میں محسنہ قدوائی نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی حکومتوں میں متعدد اہم مرکزی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہیں کانگریس کی مضبوط اور تجربہ کار رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا، جنہوں نے خواتین کی نمائندگی اور سماجی ترقی کے لیے بھی نمایاں کام کیا۔ان کے انتقال پر سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف رہنماؤں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

14 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

15 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

16 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

17 hours ago