قومی

Bareilly Violence Case: بریلی تشدد معاملہ: مولانا توقیر رضا کو بڑا جھٹکا، بریلی کی عدالت کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی خارج کردی ضمانت کی عرضی

بریلی: اتحادِ ملت کونسل (آئی ایم سی) کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان کو بریلی تشدد کیس میں ایک اور قانونی دھچکا لگا ہے۔ بریلی کی مقامی عدالت کے بعد اب الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد ان کی فوری رہائی کی امیدوں کو بڑا جھٹکا پہنچا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مولانا توقیر رضا کو فی الحال جیل میں ہی رہنا ہوگا۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال کی سنگل بنچ نے جمع کرائی گئی ضمانت درخواست پر سماعت کے بعد اسے خارج کر دیا۔ مولانا توقیر رضا نے بریلی کے بارادری تھانے میں درج مقدمے کے سلسلے میں ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سے قبل بریلی کی عدالت بھی ان کی درخواست ضمانت مسترد کر چکی تھی، جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

یہ معاملہ 26 ستمبر 2025 کو بریلی میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے متعلق ہے ۔ اس روز شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے بارادری، کوتوالی، کینٹ، قلعہ اور پریم نگر تھانوں میں الگ الگ مقدمات درج کیے تھے۔ ان ایف آئی آرز میں مولانا توقیر رضا کو مبینہ طور پر تشدد کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ دن مولانا توقیر رضا کی اپیل پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک متنازعہ معاملے کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے نعرے بازی کی اور انتظامیہ کی ہدایات کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران لگائے گئے بیریکیڈ توڑ دیے گئے، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، تاہم صورتحال مزید بگڑ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے پولیس کی وارننگ کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھنے پر اصرار کیا، جس کے نتیجے میں تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہجوم میں شامل بعض افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر اینٹیں، پتھر اور تیزابی مادے سے بھری بوتلیں پھینکیں۔ مزید یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ پولیس پر فائرنگ کی گئی، جس سے متعدد اہلکار متاثر ہوئے اور دو افسران زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حالات پر قابو پانے اور اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے پولیس کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 26 ستمبر کو نماز کے بعد پیش آنے والا تشدد ایک منظم سازش کا حصہ تھا اور اس میں کئی افراد شامل تھے۔ سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور ملزم کے خلاف دستیاب شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق 58 درخواستوں پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ مختلف ملزمان کی درخواستوں کے ساتھ مولانا توقیر رضا کی ضمانت درخواست بھی زیر غور تھی۔ عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد اس حساس معاملے میں قانونی کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

15 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

16 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

17 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

18 hours ago