بھارت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی کی صورتحال، لبنان اور اسرائیل کے تنازع اور عالمی امن سے متعلق ایران کا مؤقف تفصیل سے پیش کیا۔
جنگ بندی اور امریکی اقدامات پر ایران کا مؤقف
ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا مستقل حل مذاکرات اور بات چیت میں پوشیدہ ہے، نہ کہ طاقت کے استعمال میں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آٹھ اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کی حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ امریکی افواج کی جانب سے خلاف ورزیاں کی گئیں، جس کے باعث ایران کو اپنے دفاع کے جائز حق کے تحت جواب دینا پڑا۔ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ تہران اب بھی جنگ بندی اور سفارتی عمل کے لیے پرعزم ہے، لیکن اگر ایران کی سرزمین، سلامتی یا خودمختاری کو نشانہ بنایا گیا تو مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، بشرطیکہ تمام فریق اپنے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔
لبنان، خطے کی صورتحال اور عالمی برادری کے نام پیغام
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ ایرانی ماہرین کی ابتدائی جانچ کے مطابق ایئرپورٹ کو پہنچنے والا نقصان کسی ایرانی میزائل حملے کا نتیجہ نہیں تھا۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ یہ نقصان امریکی ساختہ پیٹریاٹ دفاعی نظام کی خرابی کی وجہ سے ہوا ہو۔ انہوں نے بعض ویڈیوز اور تصاویر کی صداقت پر بھی سوالات اٹھائے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہو۔
عالمی برادری کے نام اپنے پیغام میں ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ ایران سات ہزار سالہ تہذیب کا حامل ملک ہے اور ہمیشہ امن، بقائے باہمی اور بین الاقوامی تعاون کا داعی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی صرف اسی صورت ممکن ہے جب بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے، ممالک کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…
سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…