قومی

Parliament Budget Session: بجٹ اجلاس کے دوران زبردست ہنگامہ آرائی کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران منگل کے روز لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ صورت حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی تقریر کے دوران بعض کانگریسی ارکان نے اسپیکر کی کرسی کی جانب کاغذات اچھال دیے، جس کے بعد ایوان میں بدنظمی پھیل گئی۔ ہنگامہ بڑھنے پر اسپیکر نے 8 اراکین پارلیمنٹ کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا۔

بی جے پی کا اسپیکر سے شکایت درج کرانے کا اعلان

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی  نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسپیکر لوک سبھا کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرائے گی اور ہنگامہ آرائی میں ملوث ارکان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے میں اس قسم کا طرز عمل ناقابل قبول ہے۔

راہل گاندھی کا وزیراعظم پر سنگین الزام

ایوان سے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے ذریعے وزیر اعظم نے ملک کو فروخت کر دیا ہے اور وہ دباؤ میں آ چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا: ’’مودی جی گھبراہٹ میں ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ جو کئی مہینوں سے رکا ہوا تھا، اسے گزشتہ رات اچانک طے کر لیا گیا۔ ان پر شدید دباؤ ہے۔ وزیراعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں اور انہوں نے ملک کے مفادات کو قربان کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ صدر جمہوریہ کے خطاب پر قائد حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا گیا۔

اڈانی معاملہ اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ

راہل گاندھی نے وزیراعظم پر دباؤ کی وجہ امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمہ اور ایپسٹین فائلز کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ میں اڈانی جی کے خلاف کیس دراصل مودی جی کے خلاف کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی منظرعام پر نہیں آئیں۔ یہی دو بڑے دباؤ کے مراکز ہیں۔ ملک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ تنازع کی جڑ

یہ ہنگامہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک نئے تجارتی معاہدے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت بھارتی برآمدات پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد ہو گیا ہے۔ تاہم کانگریس پارٹی نے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں، جن میں کیا زرعی شعبہ امریکی کمپنیوں کے لیے کھولا جا رہا ہے؟ کیا ٹیرف کو صفر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے؟ کیا روس سے تیل کی خریداری روکنے پر اتفاق ہوا ہے؟ شامل ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ عوام کو معاہدے کی اصل شرائط جاننے کا حق ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق، صدر کے خطاب پر بحث کے دوران بار بار مداخلت اور نعرے بازی کے باعث کارروائی چلانا ناممکن ہو گیا تھا، جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کو دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

12 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

14 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

14 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

15 hours ago