قومی

Rahul Gandhi’s after India-US deal: ’’وزیراعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں‘‘ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر راہل گاندھی کے سنگین الزامات

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں اور انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔‘‘  پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں سے رکا ہوا بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ اچانک طے پایا ہے، جس کے پیچھے شدید بین الاقوامی دباؤ کارفرما ہے۔

’’مودی جی دباؤ میں ہیں، عوام کو سچ جاننا چاہیے‘‘

راہل گاندھی نے کہا: ’’مودی جی گھبراہٹ میں ہیں۔ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ، جو کئی مہینوں سے رکا ہوا تھا، اسے گزشتہ رات اچانک حتمی شکل دے دی گئی۔ ان پر شدید دباؤ ہے۔ ان کی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ عوام کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر بولنے نہیں دیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ: ’’مودی جی نے اس معاہدے میں عوام کی محنت کو بیچ دیا ہے کیونکہ وہ دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ مودی جی اس لیے خوفزدہ ہیں کہ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی تھی، اب وہی اسے توڑ رہے ہیں۔‘‘

گوتم اڈانی کیس اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ

جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکہ نے عام نہیں کی ہیں۔ ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دباؤ ہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔‘‘

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ: اصل تنازع کیا ہے؟

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارتی برآمدات پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تاہم کانگریس پارٹی نے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کئی اہم نکات پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے عوام کو اس کی تمام شرائط معلوم ہونی چاہئیں۔

چین سرحدی تنازع پر پھر ہنگامہ

راہل گاندھی نے اس موقع پر سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ انہوں نے میگزین میں شائع مضمون کی تصدیق کر لی ہے۔ اس بیان کے بعد لوک سبھا میں حکمراں جماعت اور انڈیا بلاک کے ارکان کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی، جس کے باعث چیئر نے ایوان کی کارروائی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi’s 25 years in public life: مودی کے 25 سالہ عوامی سفر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو شہریوں کی ضروریات سے جوڑا گیا- راجیو گوبا

راجیو گوبا نے کہا کہ پہلے بنیادی ڈھانچے کی ترقی مختلف محکموں اور وزارتوں کی…

19 minutes ago

BRICS Parliamentary Forum: برکس پارلیمانی فورم کے افتتاحی اجلاس میں پہنچے وزیراعظم مودی، غیر ملکی وفود کا کیا استقبال

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…

31 minutes ago

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

1 hour ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

3 hours ago