جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منگل کو ہونے والی مرکزی کابینہ کی اجلاس میں مودی حکومت نے ریاستی حکومت کی اس پرانی تجویز کو منظوری دے دی جس میں ریاست کا نام بدلنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس کی تصدیق خود مرکزی وزیر اشونی وشنو نے میڈیا کو دی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ریاست میں انتخابی ماحول گرم ہونے والا ہے۔ اپریل سے مئی کے درمیان کیرالہ میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس جذباتی اور ثقافتی فیصلے کا اثر وہاں کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔
’کیرا لم‘ کی مانگ کیوں تھی؟
دراصل، ملیالم زبان میں اس ریاست کو ہمیشہ سے ’کیرا لم‘ ہی کہا جاتا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجےان کا استدلال تھا کہ آئین کی آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں میں ریاست کا نام بدل کر ’کیرا لم‘ کیا جانا چاہیے تاکہ اس کی اصل شناخت اور ثقافت برقرار رہے۔ دو بار کی کوششوں کے بعد کامیابی حاصل ہوئی۔ اگست 2023 میں اسمبلی نے پہلی بار متفقہ طور پر یہ تجویز منظور کر کے مرکز کو بھیجی تھی، لیکن اس وقت وزارت داخلہ نے تکنیکی کمیوں کی وجہ سے اس میں تبدیلی کے مشورے دیے تھے۔ ناکامی کے باوجود، 24 جون 2024 کو وزیر اعلیٰ وجےان نے دوبارہ اسمبلی میں یہ تجویز پیش کی۔ اس بار بغیر کسی اعتراض کے اسے منظور کر کے دوبارہ مرکز کو بھیج دیا گیا۔اب آخر کار مرکزی حکومت نے اس پر اپنی منظوری دے دی ہے۔
عام لوگوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
اگرچہ عام شہری اب بھی اسے ’کیرالہ‘ کہہ سکتے ہیں، لیکن سرکاری دستاویزات، پاسپورٹ اور سرکاری مراسلات میں ’کیرا لم‘ کے لفظ کا استعمال بڑھ جائے گا۔ یہ قدم صرف نام بدلنے کے لیے نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی مادری زبان اور ثقافتی فخر سے جڑا ایک بڑا پیغام بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…