قومی

Middle East Crisis: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر، پٹرول 5 روپے اور ڈیزل 3 روپے فی لیٹر ہوا مہنگا

نئی دہلی :مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات اب بھارت میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ نجی ایندھن فراہم کرنے والی کمپنی نیا را انرجی نے جمعرات کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کمپنی نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔اس فیصلے کے بعد نایارا انرجی ان ابتدائی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے، جنہوں نے عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ براہ راست یوزر تک منتقل کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مختلف ریاستوں میں وی اے ٹی اور دیگر مقامی ٹیکسوں کے باعث قیمتوں میں معمولی فرق دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ بعض مقامات پر پٹرول کی قیمت میں 5.30 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فروری کے آخر سے اب تک خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے جوابی اقدامات کے بعد تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے تھے۔ حال ہی میں عالمی خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو بعد میں کم ہو کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ  سرکاری تیل کمپنیاں جیسے انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے اب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔یہ سرکاری کمپنیاں ملک کے تقریباً 90 فیصد فیول ریٹیل مارکیٹ کو کنٹرول کرتی ہیں اور اپریل 2022 سے قیمتیں تقریباً مستحکم ہیں۔بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور تقریباً 88 فیصد خام تیل بیرون ملک سے آتا ہے۔

اس میں سے بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، جو اس وقت کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔اس دوران حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور تمام پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔حکومت نے مزید کہا کہ ملک بھر میں پی این جی کنکشن تیزی سے بڑھائے جا رہے ہیں اور تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔کچھ علاقوں میں افواہوں کے باعث گھبراہٹ میں خریداری دیکھنے کو ملی،قابل ذکر با ت یہ ہے کہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی قلت نہیں ہے اور عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

4 hours ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

4 hours ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

5 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

5 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

6 hours ago