قومی

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

نئی دہلی: راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی مِمی کری پر بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ این ڈی اے کے لیڈروں نے اسے وزیراعظم کے عہدے کی توہین قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تنازع کھڑا کیا جارہا ہے۔

جے ڈی یو لیڈروں نے کیا سخت اعتراض

جے ڈی یو ایم ایل سی نیرج کمار نے اس واقعے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ملک کے آئینی عہدے پر فائز ہوتے ہیں اور اس عہدے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اہم آئینی عہدوں اور لیڈروں کے احترام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

’کیا یہی ہماری ثقافت ہے؟‘

وزیر شراون کمار نے کہا کہ لوگ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہیں اور وقت آنے پر اپنا فیصلہ دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی کی مرحوم والدہ کی نقالی کرنا کیا کسی بھی طرح درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ ان کے مطابق ملک میں لوگ اپنے آباؤ اجداد کا احترام کرتے ہیں اور سیاسی اختلاف کے باوجود اس روایت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

بی جے پی ایم ایل سی نول کشور کا طنز

بی جے پی ایم ایل سی نول کشور یادو نے بھی راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات انسان کا جسم بڑا ہوجاتا ہے، لیکن اس کا ذہن چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس پورے معاملے کے بعد بی جے پی کے دیگر لیڈروں نے بھی راہل گاندھی اور کانگریس پر تنقید کی۔ بی جے پی لیڈروں کا الزام ہے کہ پروگرام کے دوران وزیراعظم کی نقالی اور ایک بزرگ خاتون سے متعلق حوالہ نامناسب تھا۔

’تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل سے توجہ ہٹائی جارہی ہے‘

دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے لیڈروں نے راہل گاندھی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پروگرام میں وزیراعظم کی تقریر کے انداز کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا، جسے بی جے پی سیاسی تنازع بنا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا کہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کا بنیادی موضوع تعلیم، روزگار، پیپر لیک اور نوجوانوں سے متعلق مسائل تھے، لیکن مِمی کری کے معاملے کو اٹھا کر ان مسائل سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ راہل گاندھی نے بھی پروگرام میں طلبہ کے سوالات اور تعلیم سے متعلق مسائل پر حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔

ڈوسو انتخابات پر سی پی آئی (ایم) کا بیان

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) انتخابات کے نتائج پر سی پی آئی (ایم) کے سابق رکن پارلیمنٹ حنان ملا نے کہا کہ اے بی وی پی مسلسل کامیاب ہوتی رہی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک بڑا حصہ فرقہ وارانہ سیاست سے متاثر ہے۔

راہل گاندھی سے متعلق تنازع پر حنان ملا نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اپوزیشن کی آواز اور نوجوانوں کے مسائل سے پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے نوجوانوں کی مشکلات کو سمجھنے کے لیے یہ پروگرام منعقد کیا تھا اور اس میں تعلیم سمیت طلبہ کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق مِمی کری کے معاملے کو لے کر اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

24 minutes ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

1 hour ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

2 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

2 hours ago

Rajesh Mangal Ayodhya Visit: بی جے پی کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل کل پہنچیں گے ایودھیا، رام للا کے کریں گے درشن

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل پیر کے روز…

2 hours ago