بین الاقوامی

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران یمن میں 38,700 سے زیادہ ٹویوٹا ہائی لکس اور لینڈ کروزر پک اَپ ٹرک پہنچے ہیں۔ باب المندب اور ساحلی علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر چکے حوثی جنگجو ان گاڑیوں کو صحرائی اور ساحلی جنگ کے لیے متحرک جنگی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ بھاری فوجی گاڑیوں کے مقابلے میں یہ ٹرک ریتلے اور دشوار گزار علاقوں میں تیزی سے کارروائی کرنے اور وہاں سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بحیرۂ احمر میں عالمی جہازرانی اور سعودی عرب کے توانائی کے مراکز پر بڑھتے خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

میزائل اور ڈرون نہیں، اب ٹرکوں کی آمد

یمن سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے خفیہ اداروں سے لے کر دفاعی ماہرین تک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس بار بحث کا سبب کوئی راکٹ یا میزائل نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے پک اَپ ٹرک ہیں۔ ایسے وقت میں جب حوثی جنگجو باب المندب جیسے اہم ساحلی علاقے اور پیریم (میون) جزیرے کے قریب اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں، ہزاروں گاڑیوں کی آمد ایک بڑی فوجی حکمت عملی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

38,700 سے زیادہ ٹویوٹا گاڑیوں کی درآمد

’دی ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران یمن میں 38,700 سے زیادہ ٹویوٹا گاڑیاں پہنچی ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ ایک سال کے دوران ٹویوٹا ہائی لکس اور لینڈ کروزر جیسے ماڈلز کی درآمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سلامتی کے تجزیہ کاروں کے مطابق تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں یہ گاڑیاں طویل عرصے سے باغی گروہوں اور جنگجوؤں کے پسندیدہ جنگی وسائل میں شامل رہی ہیں۔

صحرائی جنگ کا ’اے کے-47‘ بنا پک اَپ ٹرک

بھاری فوجی ٹینکوں کے مقابلے میں پک اَپ ٹرک صحراؤں، ناہموار راستوں اور ریتلے علاقوں میں تیزی سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ ان کا کھلا کارگو حصہ بھاری ہتھیاروں، طیارہ شکن توپوں اور جنگجوؤں کی منتقلی کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی دفاعی ماہرین ٹویوٹا ٹرکوں کو جنگجوؤں کے لیے ’اے کے-47‘ جیسا قابلِ اعتماد اور مہلک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہ میزائلوں سے آگے بڑھ کر ایک نئی متحرک جنگی حکمت عملی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

عالمی تجارت اور خام تیل پر منڈلاتا خطرہ

باب المندب محض یمن کا سمندری راستہ نہیں بلکہ یہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا دنیا کا ایک اہم تجارتی اور توانائی کا راستہ ہے۔اگر حوثی ان ٹرکوں کے ذریعے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہیں تو اس کا اثر سعودی عرب کے تیل کے مراکز، بین الاقوامی جہازرانی اور عالمی خام تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

6 minutes ago

Rajesh Mangal Ayodhya Visit: بی جے پی کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل کل پہنچیں گے ایودھیا، رام للا کے کریں گے درشن

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل پیر کے روز…

54 minutes ago

Bishnoi Gang Shooters Arrested: جودھپور میں بشنوئی گینگ کے دو انعامی شوٹر گرفتار، دونوں پر تھا 5-5 لاکھ روپے کا انعام

پولیس نے دونوں کو جودھپور کے کیلاش نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے…

1 hour ago