نئی دہلی: خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکا جس کے بعد ملک کی سیاست میں شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپوزیشن کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی خواتین کے ساتھ ’’دھوکا‘‘ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اپوزیشن کو اس کا خمیازہ 2029 کے عام انتخابات میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں خواتین کا اعتماد کھونے کے بعد اپوزیشن کے پاس جشن منانے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کابینہ میٹنگ میں اپوزیشن کے رویے پر ناراضگی ظاہر کی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے بل کی حمایت نہ کرکے بڑی سیاسی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج انہیں مستقبل میں بھگتنے ہوں گے۔ وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کو ملک کے کونے کونے تک لے جائے گی تاکہ عوام کو اپوزیشن کی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اپوزیشن مختلف دلائل دے کر اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کو نقصان پہنچایا ہے۔
21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ
واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز بھی شامل تھی، جس پر اپوزیشن نے پہلے ہی شدید اعتراضات ظاہر کیے تھے۔ بل کے مسترد ہونے کے بعد حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے خلاف ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا ہے۔ دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں پارٹی کارکنان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سمیت کئی رہنماؤں نے شرکت کی اور اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس نے خواتین کے بااختیار بنانے جیسے اہم مسئلے کو سیاسی مفادات کی نذر کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن بل کا یہ معاملہ آنے والے انتخابات میں ایک بڑا انتخابی مدعا بن سکتا ہے۔ حکومت اسے عوامی مہم کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اس کے طریقہ کار اور دیگر نکات پر اپنے اعتراضات کو اجاگر کرے گی۔ یوں یہ معاملہ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک بڑی سیاسی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات 2029 کے انتخابات تک دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…