قومی

Ramesh Bidhuri Controversy Row: بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کی زہر افشانی پر سابق مسلم ایم پی نے اٹھایا بڑا سوال، سیکولر لیڈران سے متعلق کہی یہ بڑی بات

نئی دہلی : گزشتہ دنوں جمہوریت کی نئی عمارت پارلیمنٹ میں برسراقتدار جماعت کے رکن پارلیمنٹ کے ذریعے ایوان میں مسلم رکن کے تئیں نازیبا الفاظ اور مسلم قوم کی تذلیل کا شرمناک معاملہ پیش آیا تھا۔ جس کے بعد اس پر کاروائی کم سیاست زیادہ ہوئی۔ کئی رہنماوں نے کنور دانش علی کا ساتھ دیا ، ان کو حوصلہ دیا اور انصاف کا مطالبہ کیا ۔ البتہ سیکولر جماعتوں نے بیشتر رہنماوں نے خاموشی کو پسند کیا۔ اس بیچ آئی ایم سی آر کے چیٔرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے پسماندہ، پچھڑوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی لڑائی کا دم بھرنے والے سیکولر لیڈروں کے سامنے بڑا سوال رکھ دیا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم جس ایوان کے لیڈر ہوں اور اسی ایوان میں ان کی ہی پارٹی کا لیڈر ایوان کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے جس زہریلی زبان کا استعمال ایک قوم کے لئےکر رہا ہے، اس پر سخت ایکشن کے بجائے صرف تنبیہ کیا جانااور وزیراعظم کا بھی اس پر خاموش رہنا، نہ صرف آئین کی حرمت کو پامال کرنا ہے بلکہ ملک میں نفرت انگیز ماحول کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔
محمد ادیب نے مزید کہا کہ بی جےپی رکن نے جس زبان کا استعمال کیا ہے،اس پر  تنبیہ کے علاوہ اس کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے، ایسے میں سیکولر لیڈران جو اقلیتوں، پچھڑوں اور پسماندہ طبقات کی لڑائی کا دم بھرنے والے لیڈر بتائیں کہ وہ کس طرح سے اسی ایوان میں بیٹھیں گے، جس ایوان میں ایسا زہریلا شخص بیٹھا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیکولر لیڈروں کو اس نکتے پر سوچنا پڑے گا۔
محمد ادیب نے کہا کہ ایوان کے باہر نفرت انگیزی تو عام بات تھی مگر پارلیمنٹ کے اندر برسراقتدار جماعت کے رکن ذریعے اسی ایوان کے ایک ممبر کے ساتھ اس طرح سے گالی گلوج کیئے جانے کا واقعہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں نہیں ملتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی متاثرہ مسلم رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے گھر پہنچتے ہیں، ان سے ملاقات کر تے ہیں، اس عمل کی جتنی ستائش کی جائے وہ کم ہے۔ لیکن یہ ناکافی ہے۔ کیونکہ یہ صرف ایک رکن کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ بھر نہیں ہے، یہ ملک کی ایک سو چالیس ارب لوگوں کی تذلیل ہے۔ ایسے میں ہم تمام سیکولر لیڈروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ایوان میں بیٹھنے سے گریز کرتے ہوئے کم از کم ایوان کا بائیکاٹ ضرور کریں۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

13 minutes ago

Chief Justice Surya Kant: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

45 minutes ago