لکھنؤ کی عدالت نے بدھ کو اتر پردیش میں سابق ڈی ایس پی ضیاء الحق کے قتل کیس میں مجرموں کو سزا کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک پر 15-15 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیاہے۔ ضیاء الحق کی اہلیہ پروین کو کل جرمانے کا 50 فیصد ملے گا۔ 5 اکتوبر کو عدالت نے 10 لوگوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ 11 سال قبل کنڈہ میں سرکل آفیسر (سی او) ضیاء الحق کو لاٹھیوں سے پیٹنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے پھول چند یادو، پون یادو، منجیت یادو، گھنشیام سروج، رام لکھن گوتم، چھوٹے لال یادو، رام آسرے، منا پٹیل، شیورام پاسی، جگت بہادر پال عرف بلے پال کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔تمام مجرموں کو سی بی آئی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق سال 2013 میں کنڈا کے ڈی ایس پی ضیاء الحق پولیس پارٹی کے ساتھ بالی پور علاقے کے سربراہ ننھے یادو کے گھر گئے تھے، اس وقت ننھے یادو کے قتل کی وجہ سے علاقے میں حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پولیس پارٹی وہاں پہنچی تھی ۔الزام ہے کہ متوفی ننھے یادو کے اہل خانہ اور حامیوں نے پولیس پر لاٹھیوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا اورپھر ہجوم نے سی او کنڈہ ضیاء الحق کو قتل کر دیا۔
اس پورے میں قریب گیارہ سال سے جانچ اور عدالتی کاروائی دیکھنے کو مل رہی تھی البتہ اب عدالت سے انصاف مل گیا ہے اور ضیاء الحق کے قاتلوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ،ساتھ میں پندرہ ہزار کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ کل 10 مجرموں کو یہ سزا سنائی گئی ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ ان دس مجرموں کی طرف سے جرمانے کی رقم کو ایک لاکھ پہنچتی ہے اس کا نصف یعنی پچاس ہزار ضیاء الحق کی بیوہ کو دیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…
وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط…
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جن مساجد کو آج نقصان پہنچایا جا رہا ہے…
ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی…
یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے…