قومی

Dreamliner is the safest aircraft: ڈریم لائنر دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں سے ایک، ایئر انڈیا نے احمد آباد حادثے پر پارلیمانی کمیٹی میں اپنا موقف پیش کیا

ایئر انڈیا نے 12 جون کو احمد آباد میں پیش آئے افسوسناک AI-171 طیارہ حادثے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ حادثے میں شامل بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کو دیے گئے اپنے جواب میں کہا کہ دنیا بھر میں اس وقت 1,000 سے زائد ڈریم لائنر طیارے کامیابی سے اپنی سروس دے رہے ہیں۔

احمد آباد کا اندوہناک حادثہ،260 ہلاکتیں

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب 12 جون کو ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز AI-171، سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی احمد آباد کے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر جا گری۔ اس حادثے میں 241 مسافر اور عملے کے ارکان سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں میڈیکل کالج کے 19 طلباء بھی شامل تھے۔

آفیشل انکوائری رپورٹ کا انتظار

یہ اجلاس دراصل ہوائی اڈوں پر عائد فیسوں کے بارے میں گفتگو کے لیے طے پایا تھا، مگر حادثے کی سنگینی کے باعث نشست کا ماحول سنجیدہ اور تناؤ سے بھر گیا۔ ایئر انڈیا نے کہا: کمپنی اس حادثے سے گہرے صدمے میں ہے اور آفیشل انکوائری رپورٹ کا انتظار کررہی ہے۔

PAC  اجلاس میں شرکت کرنے والے اعلیٰ حکام

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی اس اہم میٹنگ میں ایئر انڈیا کے سی ای او ولسن کیمبل نے شرکت کی۔ ان کے ساتھ وزارت شہری ہوابازی (MoCA)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA)، ایئرپورٹ اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی (AERA)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (AAI)، اور بیورو آف سول ایوی ایشن سیکیورٹی (BCAS) کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ، انڈیگو، آکاسا ایئر اور دیگر ایئرلائنز کے سینئر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ڈی جی سی اے کی کارکردگی پر شک و شبہ

اجلاس میں شامل کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے ایئرلائن کمپنیوں سے حفاظتی طریقہ کار پر وضاحت طلب کی اور BCAS سے فوری آڈٹ کا مطالبہ کیا۔ اراکین نے DGCA کی نگرانی اور کارکردگی پر سوالات اٹھائے، اور حالیہ حفاظتی کوتاہیوں پر تشویش ظاہر کی۔ اس کے علاوہ، پہلگام حملے کے بعد کرایوں میں بے تحاشہ اضافے کو بھی ریگولیٹری اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم میں ماہرین کی شمولیت پر سوال

پی اے سی میں اراکین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم میں کن ماہرین کو شامل کیا گیا ہے؟ اور کیا کسی بین الاقوامی ماہرِ ہوابازی سے مشورہ یا شراکت کی گئی ہے؟

AAIB  نے ابتدائی رپورٹ وزارت کو سونپی

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB) نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ وزارت شہری ہوابازی کو منگل کے روز سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، AAIB امریکی ادارہ “نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ” (NTSB) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ طیارے کے ملبے سے دونوں بلیک باکس (CVR اور FDR) برآمد ہونے کے بعد تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 13 جون کو کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) جبکہ 16 جون کو فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) برآمد ہوا۔ 24 جون کو دونوں بلیک باکسز کو فضائیہ کے ذریعے دہلی پہنچایا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

29 minutes ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

39 minutes ago