قومی

Opposition’s Big Attack on PM Modi: ’تقریر میں 59 بار کانگریس کا ذکر، مگر خواتین کو بھول گئے‘، وزیر اعظم مودی پر اپوزیشن کا بڑا حملہ

خواتین ریزرویشن بل کے معاملے پر ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے قوم سے خطاب پر کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور سینئر رہنما جے رام رمیش نے سخت جوابی حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی تقریر میں خواتین کے حقوق سے زیادہ کانگریس کے خلاف نفرت دکھائی دی۔

ملیکار جن کھڑگے کی وزیر اعظم کے خطاب پر سخت تنقید

ملیکار جن کھڑگے نے وزیر اعظم کے خطاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے اپنی پوری تقریر میں 59 بار ’کانگریس‘ کا نام لیا، جبکہ خواتین کا ذکر نہ ہونے کے برابر کیا۔ کھڑگے نے کہا، ’’یہ ملک کو بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کی ترجیح خواتین نہیں بلکہ کانگریس کو کوسنا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں کچھ نہ کر پانے والے مایوس وزیر اعظم نے قومی پلیٹ فارم کا استعمال صرف الزام تراشی اور جھوٹ بولنے کے لیے کیا ہے۔‘‘

ملک کی خواتین یہ توہین نہیں بھولیں گی: کھڑگے

پارلیمانی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ لاکھوں خواتین اس امید کے ساتھ بحث دیکھ رہی تھیں کہ انہیں ان کا حق ملے گا، لیکن ان کی توہین کی گئی۔ انہوں نے اپوزیشن پر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “کانگریس، ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی جیسی جماعتوں پر جشن منانے کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ ایوان میں جو ہوا وہ صرف ڈیسک بجانا نہیں تھا بلکہ خواتین کے اعتماد پر حملہ تھا۔ خواتین بہت سی باتیں بھول سکتی ہیں، لیکن اپنی توہین کبھی نہیں بھولتیں۔”

‘یہ قومی نہیں، بحرانی تقریر ہے’

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب ایک غیر جانبدار “قومی خطاب” کے بجائے “بحرانی تقریر” لگ رہا تھا۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو نشانہ بنانے کے لیے سرکاری نظام کا غلط استعمال کیا ہے۔ جے رام رمیش نے حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں تاخیر کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ حکومت ریزرویشن کو حد بندی (ڈلیمٹیشن) سے جوڑ کر معاملے کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ اس بل کی حمایت کی ہے، چاہے 2010 میں راجیہ سبھا میں اسے منظور کرانا ہو یا 2023 کے قانون کی حمایت۔ بی جے پی صرف تاخیر کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔منی ش تیواری نے واضح الفاظ میں کہا کہ لوک سبھا میں جو بل گرا، وہ صرف خواتین کے حقوق کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ’حد بندی‘  کا کھیل چھپا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑ کر اسے ایک پیچیدہ سیاسی عمل بنا رہی ہے۔ تیواری نے وزیر اعظم کو چیلنج دیتے ہوئے کہا، ’’اگر نیت صاف ہے تو موجودہ لوک سبھا ڈھانچے کے اندر ہی خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے فوری نیا بل لایا جائے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

11 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

12 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

13 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

14 hours ago