بھارت ایکسپریس۔
ہنگامہ آرائی کے دوران لوک سبھا سے دہلی سروس بل کو منظوری مل گئی۔
مرکزی حکومت نے افسران کے تبادلوں اورپوسٹنگ سے متعلق دہلی سروس بل مرکزی حکومت نے آج منگل کے روزیعنی یکم اگست کو لوک سبھا میں پیش کیا۔ مرکزی وزیرنتیانند رائے نے وزیرداخلہ امت شاہ کی طرف سے ایوان میں بل پیش کیا۔ جیسے ہی بل پیش کیا گیا تو ایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا، جس کے سبب ایوان کی کارروائی تین بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ اپوزیشن نے بل کی جم کرمخالفت کی ہے۔ کانگریس، ٹی ایم سی اورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اس بل کی مخالفت کی ہے۔
بل سے متعلق امت شاہ نے کہا کہ یہ مخالفت سیاسی ہے، آئینی بنیاد نہیں ہے۔ اس بنیاد پراس بل کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ امت شاہ نے مزید کہا کہ اس ایوان کو قانون بنانے کا اختیار ہے۔ دوسرا سپریم کورٹ کے حکم میں ہی کہا گیا ہے کہ اگرمرکزی حکومت کو لگتا ہے تو وہ قانون بناسکتی ہے۔
اپوزیشن لیڈرادھیر رنجن چودھری نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت آئین کو کمزور کر رہی ہے۔ ادھیر رنجن چودھری نے یہ بھی کہا کہ یہ دہلی حکومت کے افسران کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…