قومی

Supreme Court: منی پور وائرل ویڈیو معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایت،متاثرین کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے کوکہا

Supreme Court:  سپریم کورٹ نے منگل کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو منی پور میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے کی ہدایت دی۔سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور کہا کہ کورٹ اس معاملے  پر دوپہر 2 بجے تک عرضیوں کی سماعت کرے گی۔

گزشتہ ماہ منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں منی پور میں کچھ لوگ دو خواتین کو برہنہ کرکے گھوماتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے خواتین کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا کی عرضیوں کا نوٹس لیا۔ سی بی آئی نے ان خواتین کو آج ان کے سامنے پیش ہونے اور اپنے بیانات ریکارڈ کرنے کو کہا تھا۔

مرکز اور منی پور حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ اس سے واقف نہیں ہیں۔

بنچ نے کہا، ”انہیں (سی بی آئی افسران) کو انتظار کرنے کو کہو۔ ہم اسے آج دوپہر 2 بجے سنیں گے۔

اس پر مہتا نے جواب دیا، “میں یہ پیغام دوں گا… اگر ہم نے کچھ نہ کیا ہوتا تو مسٹر کپل سبل (خواتین کے وکیل) ہم پر کچھ نہ کرنے کا الزام لگا چکے ہوتے۔”

مہتا نے کہا کہ وہ سی بی آئی حکام سے بیان ریکارڈ نہ کرنے کو کہیں گے۔

سپریم کورٹ دوپہر 2 بجے منی پور کے تشدد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرے گی اور تحقیقات کی نگرانی کے لیے ریٹائرڈ ججوں کی ایک کمیٹی یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے قیام کا حکم دے سکتی ہے۔

منی پور میں متعلقہ خواتین کی برہنہ پریڈ کے ویڈیو کو خوفناک قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے پیر کو ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ جاننے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ عدالت نے جانچ کی نگرانی کے لیے ریٹائرڈ ججوں کی ایک کمیٹی یا اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) بنانے کا بھی مشورہ دیا تھا۔

منی پور میں خواتین کے خلاف تشدد کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے عدالت نے مغربی بنگال، راجستھان، چھتیس گڑھ اور کیرالہ جیسی اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں اسی طرح کے مبینہ واقعات کے بارے میں عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بنچ نے ذات پات کے تشدد سے متعلق تقریباً 6000 معاملوں میں ریاست کی طرف سے کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ منی پور پولیس کو ان معاملے  کے پیش نظر اپنی تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ پولیس اہلکاروں نے خود خواتین کو ہجوم کے حوالے کیا تھا۔.

انہوں نے پوچھا کہ ریاستی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے میں 14 دن کیوں لگے؟

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

4 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

6 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

6 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

7 hours ago