مہاراشٹر کے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی اتحاد یکطرفہ فتح کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات میں پہلی بار بی جے پی کو واضح اکثریت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس انتخاب میں ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کی جماعتوں کی کارکردگی سب سے زیادہ مایوس کن رہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بی ایم سی انتخابات میں سب سے بڑی طاقت کے طور پر ابھری ہے اور اس کے اتحاد کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی ہے۔ وہیں راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) دوہرے ہندسے تک بھی پہنچتی نظر نہیں آ رہی، جبکہ 22 شہروں میں تو پارٹی اپنا کھاتہ تک نہیں کھول سکی۔
ممبئی میں ایم این ایس کی مایوس کن کارکردگی
بی ایم سی کی 227 نشستوں میں سے راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس صرف 5 نشستوں پر ہی آگے چل رہی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایم این ایس نے یہ انتخاب شیو سینا (یو بی ٹی) کے ساتھ مل کر لڑا تھا، لیکن جن نشستوں پر ایم این ایس نے امیدوار کھڑے کیے تھے، ان میں سے چند پر ہی بھرپور انتخابی مہم نظر آئی۔ راج ٹھاکرے نے ممبئی میں پوری طاقت جھونک دی، اس کے باوجود نتائج پارٹی کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے۔ پارٹی نہ صرف دوہرے ہندسے کو چھونے میں ناکام رہی بلکہ اس کارکردگی نے ’’مراٹھی مانوس‘‘ کی سیاست پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اس سے راج ٹھاکرے کی عوامی مقبولیت پر پڑنے والے اثرات بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔
22 شہروں میں کھاتہ صفر
ایم این ایس کو صرف ممبئی میں ہی جھٹکا نہیں لگا، بلکہ 22 دیگر شہروں میں پارٹی ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی۔ پونے، سمبھاجی نگر، کولہا پور، سانگلی-مرج، میرا-بھایندر، وسئی-ویرار، بھیونڈی، پنویل، ناگپور، پربھنی، جلانا، پمپری-چنچوڑ، سولاپور، مالیگاؤں، جلگاؤں، دھولے، اچلکرنجی، ناندیڑ، لاتور، امراوتی، اکولا اور چندرپور میں پارٹی کا مکمل صفایا ہو گیا۔ دیگر شہروں میں ایم این ایس کی کارکردگی بھی کمزور رہی۔ کلیان-ڈومبیولی میں 122 میں سے 4 نشستوں پر، تھانے میں 131 میں سے صرف ایک نشست پر اور ناسک میں 122 میں سے 2 نشستوں پر پارٹی آگے ہے۔ نوی ممبئی میں ایک اور اہلیانگر میں تین نشستیں ایم این ایس کے حصے میں آئیں۔
بی جے پی اتحاد کی یکطرفہ برتری
بی جے پی اتحاد نے اس انتخاب میں زبردست یکطرفہ برتری حاصل کی ہے۔ بی جے پی 1064 وارڈوں میں آگے چل رہی ہے، جبکہ ایکناتھ شندے کی شیو سینا 282 وارڈوں میں برتری پر ہے۔ بی جے پی کو مجموعی طور پر 222 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ نتائج بی جے پی کے لیے ایک بڑی کامیابی مانے جا رہے ہیں، جبکہ ٹھاکرے برادران کا اتحاد بھی ناکام ثابت ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران راج ٹھاکرے نے ’’مراٹھی مانوس‘‘ کے مسائل کو نمایاں کیا، لیکن نتائج ایم این ایس کے لیے شدید مایوسی کا سبب بنے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…