ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا پرسخت کارروائی کرتے ہوئے تین افسران کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
احمدآباد طیارہ حادثے میں کم ازکم 297 لوگوں کی موت کے بعد ڈی جی سی اے نے ایئرانڈیا کو تین لاپرواہ افسران کو نوکری سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ احمدآباد سے لندن جا رہا ایئرانڈیا کا طیارہ 12 جون کو ٹیک آف کے کچھ سیکنڈ بعد حادثے کا شکارہوگیا تھا۔ اس حادثے میں طیارہ میں سوار242 میں سے 241 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ وہیں، جس عمارت سے طیارہ ٹکرایا تھا، اس میں موجود کئی لوگ بھی ہلاک ہوگئے۔
ایئرانڈیا نے خود ہی اطلاع دیتے ہوئے تینوں افسران کی لاپرواہی کا انکشاف کیا تھا۔ اس کے بعد ڈی جی سی اے نے تینوں کو نوکری سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں سینئر افسران پر سنگین لاپرواہی دوہرانے کے الزام لگے ہیں اوران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
افسران نے کیا لاپرواہی کی؟
ایئرانڈیا کی طرف سے دی گئی جانکاری کے مطابق، ان افسران نے پروٹوکول پرعمل نہیں کیا۔ طیارہ میں ڈیوٹی لگانے سے پہلے سبھی کرو ممبرکے لائسنس کی جانچ کی جاتی ہے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ مسافروں کے آرام اورانہیں تروتازہ کرنے کے لئے بھی ضروری چیزوں کا دھیان نہیں رکھا گیا تھا۔ ایوی ایشن ریسورس منیجمنٹ سسٹم اور کرو منیجمنٹ سسٹم کے جائزہ کے دوران لاپرواہی کا انکشاف ہوا۔ ایئرلائنس ایوی ایشن ریسورس سسٹم ایک مربوط نظام ہے، جسے ایئرلائنس عملے کے انتظام کے لئے استعمال کرتی ہے۔
ڈی جی سی اے نے کیا کہا؟
ڈی جی سی اے نے 20 جون کوحکم جاری کرکے کہا، “رضاکارانہ انکشافات عملے کے نظام الاوقات، نگرانی اوراندرونی جوابدہی میں ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خاص طورپرتشویش کی بات یہ ہے کہ ان کوتاہیوں کے لئے براہ راست ذمہ داراہم اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا فقدان ہے۔” ڈی جی سی اے نے تین عہدیداروں کوبراہ راست ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ ڈویژنل نائب صدرچورا سنگھ، ڈائریکٹوریٹ آف کریوشیڈولنگ آپریشنزمیں چیف منیجرپنکی متل اورکرو شیڈولنگ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی پائل اروڑہ کوہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔
افسران کو روسٹرلگانے کے کردار سے ہٹانے کا حکم
ان اہلکاروں کوسنگین اورباربارہونے والی کوتاہیوں کے لئے ذمہ دارٹھہرایا گیا ہے، بشمول غیرمجازاورغیرتعمیل عملے کی جوڑی، لازمی لائسنسنگ اوراختراعی اصولوں کی خلاف ورزی، اورشیڈولنگ پروٹوکول اورنگرانی میں نظامی ناکامیاں۔ ڈی جی سی اے نے ایئرانڈیا کو تینوں اہلکاروں کوعملے کے شیڈولنگ اورروسٹرنگ سے متعلق تمام کرداروں اورذمہ داریوں سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔
10 دنوں کے اندرکارروائی کے بارے میں بتائیں
حکم نامے میں کہا گیا، ’’ان اہلکاروں کے خلاف اندرونی تادیبی کارروائی بلا تاخیر شروع کی جانی چاہئے اوراس طرح کی کارروائی کے نتائج اس خط کے اجراء کی تاریخ سے 10 دنوں کے اندراس دفترکوبتائے جائیں۔‘‘ ڈی جی سی اے نے کہا کہ آفیشلزکوشیڈولنگ پریکٹسزمیں اصلاحی بہتری کی تکمیل تک غیرآپریشنل کرداروں میں دوبارہ تعینات کیا جائے گا اوروہ اگلے نوٹس تک فلائٹ سیفٹی اورعملے کی تعمیل پر براہ راست اثرڈالنے والے کسی عہدے پرفائزنہیں ہوں گے۔
اگلی لاپرواہی کے لئے سخت وارننگ
آرڈرمیں واضح کیا گیا، “کسی بھی پوسٹ آڈٹ یا انسپیکشن میں عملے کے شیڈولنگ کے اصولوں، لائسنسنگ یا پروازکے وقت کی حدود کی مستقبل میں خلاف ورزیوں کا انکشاف ہونے کی صورت میں سخت نفاذ کی کارروائی کی جائے گی۔ ایسا ہونے پرپینلٹی لگانے کے ساتھ ہی لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے یا آپریٹرکی اجازت واپس لی جا سکتی ہے۔
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…