قومی

Unitech Limited in crisis: عدالت کے مقرر کردہ انتظام میں پھنسا یونیٹیک،  40,000 کروڑ کی جائیداد کا ہوا نقصان، گھر کے خریداروں نے طلب کیا فوری حل

نئی دہلی: کبھی ہندوستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرکردہ کمپنی سمجھی جانی والی یونیٹیک لمیٹڈ اب گہرے بحران میں ہے۔ سپریم کورٹ کے 2020 کے حکم کے بعد عدالت کی طرف سے مقرر کردہ انتظامیہ کی قیادت میں کمپنی کی کارکردگی مسلسل گر رہی ہے۔ گھر کے خریداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا الزام ہے کہ بحالی کی امیدیں اب بیوروکریٹک پیچیدگیوں میں الجھی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔

خاص طور پر، مجوزہ ریزولیوشن پلان (RP) نے بڑے شہری علاقوں جیسے کہ نوئیڈا، گروگرام اور چنئی میں پھیلے ہوئے یونیٹیک کے زمینی ذخیرے کو بہت کم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، نوئیڈا کی زمین کی قیمت صرف 5,641 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، جبکہ آزاد قیمتوں میں اس کی قیمت 40,000 کروڑ روپے تک ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر جائیداد کی قدر کم کرکے کمپنی کی صلاحیت کو چھپایا گیا ہے۔

بڑھتے خسارے اور رکے ہوئے منصوبے

ایم ڈی یودھویر سنگھ ملک کی قیادت میں یونائیٹڈ، یونٹیک کو اب تک 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ نوئیڈا اتھارٹی کے واجبات 2,700 کروڑ روپے سے بڑھ کر 11,000 کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ گراوٹ دیوالیہ پن کی وجہ سے نہیں بلکہ ناقص مالیاتی انتظام، فیصلوں میں تاخیر اور کاروباری سمت میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

کمپنی کے خلاف قانونی مقدمات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے منصوبے مزید تاخیر کا شکار ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز کا الزام ہے کہ انتظامیہ شفاف حل کے بجائے افسر شاہی کا رویہ اپنا رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں اور خریداروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

حکمرانی کے نظام پر اٹھے سوال

مجوزہ ریزولوشن پلان کی کچھ شرائط بھی تنازعہ کا شکار ہیں۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ انتظامیہ کو احتساب سے بچانے اور اسٹیک ہولڈرز کے قانونی حقوق کو محدود کرنے کے مقصد سے کچھ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ شفافیت، جس کی عدالت سے توقع تھی، میں بھی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ایم ڈی یودھویر سنگھ ملک کا ماضی کا انتظامی ریکارڈ بھی شک کی زد میں ہے خاص طور پر نیسلے انڈیا تنازعہ اور ان کے مبینہ ’اختیارات کے غلط استعمال‘ میں۔

عوام میں بے بڑھ رہی ہے چینی

ہزاروں گھر خریدار اب بھی ان گھروں کے لیے EMIs ادا کر رہے ہیں جو انہیں ابھی تک موصول نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کمپنی کی انتظامیہ سرکاری رہائش میں رہ رہی ہے اور عدالتی تحفظ میں آرام سے کام کر رہی ہے۔ یہ تفاوت خریداروں کی عدم اطمینان اور عدم اعتماد کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

تجربہ کار پیشہ ور افراد کا مطالبہ

اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے واضح مطالبہ ہے کہ یونیٹیک کو اب ریئل اسٹیٹ، ویلیوایشن اور پراجیکٹ مینجمنٹ میں حقیقی تجربے کے ساتھ پیشہ ورانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ قیادت میں بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایک خریدار کے نمائندے نے کہا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت امید کی کرن تھی۔ لیکن سمت بھٹک گئی ہے۔ اب اصلاح کی ضرورت ہے اور وہ بھی فوراً۔ اسٹیک ہولڈرز نے سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ انتظامیہ کو ہٹا کر اور ایک قابل پیشہ ور ٹیم کا تقرر کرتے ہوئے ریزولوشن پلان کا دوبارہ جائزہ لیں جو یونیٹیک کو بحال کر سکے اور گھر خریداروں کو انصاف فراہم کر سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Bharat Express

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago