قومی

Goods will not get Stuck at the Border: ’سرحد پر نہیں رکے گا سامان…‘ برکس ممالک کے نئے کسٹمز ضوابط سے بھارتی برآمد کنندگان کو بڑا فائدہ

برکس ممالک اب صرف اجلاسوں اور اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ تجارتی نظام کو زمینی سطح پر آسان بنانے کی سمت بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ نئی دہلی اعلامیے کے ساتھ رکن ممالک نے کسٹمز تعاون اور انتظامی معاونت کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے قائم کیا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ برآمد کنندگان کو ملنے کی امید ہے، کیونکہ کسٹمز کلیئرنس میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر کم ہوگی۔ اگرچہ اس معاہدے سے فوری طور پر ٹیرف ختم یا کم نہیں ہوں گے، لیکن کاغذی کارروائی اور جانچ کے عمل میں وقت کی بچت سے سامان کی مجموعی لاگت کم ہوسکتی ہے۔

برآمد کنندگان کے لیے کیا بدلے گا؟

نئے انتظام کے تحت برکس ممالک کی کسٹمز ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی ڈیٹا شیئر کریں گی اور اے ای او (مجاز اقتصادی آپریٹر) پروگرام کے تحت قابلِ اعتماد کاروباری اداروں کو خصوصی سہولت دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کمپنیوں کا ریکارڈ بہتر ہوگا، ان کے سامان کی سرحدی سطح پر بار بار جسمانی جانچ کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ اس سے کلیئرنس کا عمل تیز ہوگا اور برآمد کنندگان کو اپنے سامان کی ترسیل میں کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈیجیٹل کسٹمز سے کلیئرنس میں آئے گی تیزی

اس نئے نظام میں اسمارٹ کسٹمز، ڈیجیٹل سنگل ونڈو اور پہلے سے ڈیٹا شیئر کرنے جیسے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے سامان کی جانچ اور کلیئرنس کا عمل زیادہ تیز اور مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بندرگاہوں پر جہازوں اور کنٹینرز کے زیادہ دیر تک رکنے کی ضرورت کم ہونے سے ڈیمریج اور اسٹوریج جیسے اضافی اخراجات میں بھی کمی آسکتی ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ برآمد کنندگان اور دیگر تجارتی اداروں کو ہوگا۔

سرحد پر تاخیر سے لاجسٹکس لاگت میں بڑا نقصان

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی تجارت میں سرحدوں پر ہونے والی تاخیر لاجسٹکس لاگت کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے۔ ایسے میں کسٹمز کلیئرنس کا عمل تیز ہونے سے کمپنیوں کے وقت اور اخراجات دونوں میں بچت ہوسکتی ہے اور سامان بھی مقررہ وقت پر منڈیوں تک پہنچ سکے گا۔ چین کی شیامن بندرگاہ اور جنوبی افریقہ کی ڈربن بندرگاہ کے درمیان شروع کیا گیا ’اسمارٹ اینڈ سکیور ٹریڈ لین‘ منصوبہ اس سمت میں ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جسے برکس کے وسیع تر نیٹ ورک میں نافذ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

یہ فری ٹریڈ معاہدہ نہیں

تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسٹمز تعاون کا یہ معاہدہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) نہیں ہے۔ اس لیے اس کے نتیجے میں براہِ راست ٹیکس یا ٹیرف کی شرحیں صفر نہیں ہوں گی۔ البتہ وہ برآمد کنندگان جو اپنے دستاویزات، مصنوعات کے معیار اور سپلائی چین کو شفاف اور منظم رکھیں گے، انہیں برکس کی منڈیوں میں اپنے سامان کی ترسیل اور فروخت کے حوالے سے عملی طور پر فائدہ مل سکتا ہے۔ نئے کسٹمز نظام کا بنیادی مقصد تجارت کو زیادہ تیز، شفاف اور کم خرچ بنانا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Prashant Kumar

Recent Posts

US Part Time Jobs: امریکہ میں تعلیم کے ساتھ لاکھوں روپے کمانے کا موقع! بھارتی طلبہ کے لیے کیمپس میں 5 بہترین پارٹ ٹائم نوکریاں

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ یونیورسٹی کے اندر مختلف پارٹ ٹائم نوکریاں…

1 hour ago