دہلی میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے آج کا دن ایک تاریخی دن تھا۔ 40 سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر ان خاندانوں کو انصاف کی کرن مل گئی۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے 89 ضرورت مندوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامے سونپے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اس تاریخی ناانصافی کو درست کرنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھایا ہے، جو اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا تھا۔
متاثرہ خاندانوں کی تیسری نسل کے لیے نوکریاں
ماحولیات اور جنگلات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ اتنے سالوں کے بعد جب تقرری نامے موصول ہوئے، متاثرہ خاندانوں کی تیسری نسل ملازمتوں کے لیے اہل ہو چکی تھی۔ حکومت نے تمام رسمی کارروائیوں کو آسان بنا دیا ہے تاکہ اہل امیدوار آسانی سے ملازمت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کل 125 لوگوں کو تقرری نامے دیے جانے تھے، جن میں سے 89 کوآج تقرری نامے سونپ دئیے گئے ہیں، باقی کو عمل مکمل ہونے کے بعد جلد ہی دیا جائے گا۔
دیگر کمیونٹیز کے لیے بھی ریلیف پہل: سی ایم
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے کشمیری پناہ گزینوں کے لیے امدادی اقدام شروع کیا ہے اور جمہوریت کےلیے لڑنے والے سپاہیوں کو پنشن فراہم کرنے کے منصوبے پر کام جاری کیا۔ اس فیصلے سے 1984 کے فسادات سے متاثرہ خاندانوں میں نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
آج بھی ان متاثرہ خاندانوں کی آنکھوں میں اس درد کے آنسو نظر آتے ہیں لیکن حکومت کے اس قدم سے ان کی زندگیوں میں ایک نئی شروعات ہوئی ہے اور نظام پر ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ اس قدم سے نہ صرف متاثرین کو راحت ملے گی بلکہ اس فیصلے کو کئی دہائیوں سے جاری ناانصافی کا ازالہ کرنے کی سمت ایک اہم قدم مانا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…