شری کلکی نارائن، جو ’ہری‘ وشنو کے آخری اوتار ہیں، کی جائے پیدائش سنبھل کی مقدس سرزمین پر تیزی سے تعمیر ہو رہا شری کلکی دھام اپنی روحانی عظمت کے باعث ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس اہم موقع پر شری کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے شری کلکی دھام کے ’’گربھ گرہ‘‘ کا طواف اور درشن کرتے ہوئے بھارت کے مستقبل یعنی اسکول کے طلبا و طالبات کی روح پرور تصاویر شیئر کی ہیں۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں وزیراعظم کے دفتر (PMO) اور وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’شری ’ہری‘ وشنو کے آخری اوتار شری کلکی نارائن بھگوان کی جائے پیدائش سنبھل کی مقدس سرزمین پر تعمیر کیے جا رہے شری کلکی دھام کے ’گربھ گرہ‘ کا طواف اور درشن کرتا ہوا ’بھارت‘ کا مستقبل۔ صبح سویرے کا ایک خوبصورت اور دلکش منظر۔‘‘
آچاریہ پرمود کرشنم کا ماننا ہے کہ کہ شری کلکی دھام کی تعمیر نہ صرف مذہبی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ بھارت کی روحانی بیداری اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کا بھی ایک اہم قدم ہے۔ ’گربھ گرہ‘ کا طواف، جو ہندو مندروں میں خاص مقام رکھتا ہے، یہاں نئے دور کے آغاز کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شری کلکی دھام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پورے ملک کے لیے امن، یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بنے گا۔ اس موقع پر کئی مقامی اور ملکی شخصیات نے بھی اپنی خوشی اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ شری کلکی دھام کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہاں بھارت بھر سے لاکھوں زائرین کی آمد متوقع ہے، جو اس مقدس مقام کی روحانی اور تاریخی اہمیت کو مزید بڑھائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات سے پہلے جنتا دل یونائیٹڈ کے اندر جاری اختلافات…
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیتلا ماتا مندر کے قریب پیش آنے والے بھیانک سڑک…
وزیر اعظم وکست بھارت روزگار یوجنا کے تحت پہلی بار ملازمت شروع کرنے والے نوجوانوں…
فرانس میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار…
محکمہ موسمیات نے 18 اکتوبر کو ملک کی کئی ریاستوں میں شدید بارش، آندھی اور…
نوراتری کے دوران مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں پیش آنے والے…