نئی دہلی : مدورائی میں 19 اپریل کو ضلع عدالت کے اضافی عدالتی عمارتوں اور مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کے لیے نئے گیسٹ ہاؤس کا افتتاح کیا گیا۔ اس تقریب میں چیف جسٹس سوریہ کانت سمیت سپریم کورٹ آف انڈیا اور ہائی کورٹ کے کئی سینئر جج شریک ہوئے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم ایم سندریش نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی محنت اور مصروف معمولات پر روشنی ڈالی۔جسٹس سندریش نے تمل زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں آسان نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے روزمرہ معمولات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ روزانہ تقریباً 17 سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس رات تقریباً 3 بجے سوتے ہیں اور صبح 7 بجے دوبارہ کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، جو ان کی غیر معمولی محنت اور ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے عدالتی نظام میں نچلی عدالتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ قوانین کی تشریح کرتے ہیں، لیکن ضلعی عدالتیں ہی ان قوانین کو عام شہریوں کی زندگی میں عملی شکل دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر شہریوں کے لیے ضلعی عدالتیں ہی انصاف کا پہلا اور اکثر آخری دروازہ ہوتی ہیں، اس لیے انہیں عدالتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانا چاہیے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے مزید کہا کہ عدالتوں تک عوام کی آسان رسائی انتہائی ضروری ہے۔ اگر عدالت شہریوں کی پہنچ سے دور ہو تو یہ انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی طرح سے ڈیزائن کیا گیا کورٹ روم نہ صرف نظم و ضبط کو فروغ دیتا ہے بلکہ عدالتی کارروائی کو وقار بھی فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے کے مہیشوری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کسی کا خصوصی حق نہیں بلکہ یہ نظام کی ایک مقدس ذمہ داری ہے، جسے پورا کرنا آئینی فریضہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انصاف ہمیشہ غیر جانبدار، بے خوف اور بغیر کسی دباؤ کے ہونا چاہیے۔دوسری جانب جسٹس ایس اے دھرمادھیکاری نے نئے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1813 میں قائم مدورائی ضلع عدلیہ ملک کی قدیم ترین عدلیاتی اکائیوں میں سے ایک ہے۔ نئے عدالتی کمپلیکس میں 18 عدالت ہال بنائے گئے ہیں، جس پر تقریباً 166 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ باہر سے آنے والے ججوں کی رہائش اور عدالتی کام کو بہتر بنانے کے لیے مدورائی بنچ میں 17.6 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا گیسٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس نئے انفراسٹرکچر سے نہ صرف عدالتی کام میں تیزی آئے گی بلکہ عوام کو بھی بہتر اور فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…