کولکاتہ کے رتوراج ہوٹل میں منگل کی شام لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد، جن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے مرکزی علاقے میں پیش آیا۔ آگ شام 7:30 بجے کے قریب لگی اور تیزی سے پورے ہوٹل میں پھیل گئی، جس سے عمارت دھوئیں سے بھر گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر اموات دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیں، جبکہ ایک شخص عمارت سے کودتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ کولکاتہ پولیس کمشنر منوج کمار ورما نے تصدیق کی کہ آگ پر 1 بجے قابو پایا گیا، جس کے لیے فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیاں بھیجی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) قائم کی گئی ہے تاکہ آگ لگنے کی وجوہات اور ہوٹل کے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ آگ لگنے کے بعد متاثرین اپنے کمروں میں پھنس گئے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ اور دھوئیں نے بہت تیزی سے پھیل کر فرار کے راستے بند کر دیے، جس کی وجہ سے بہت سے افراد باہر نہیں نکل سکے۔
رتوراج ہوٹل پانچ منزلہ رہائشی عمارت ہے، جو ایک تجارتی گودام کے اوپر ایک گنجان آباد علاقے، مدن موہن برمن اسٹریٹ، میں واقع ہے۔ فائر فائٹرز نے کئی افراد کو بچا لیا، تاہم آگ اور دھوئیں کی شدت کی وجہ سے جانی نقصان ہوا۔
رہنماؤں کا اظہارافسوس اور کارروائی کا مطالبہ
وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس المناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پر لکھا: “کولکاتہ میں آگ لگنے کے واقعے میں جانوں کے ضیاع پر دکھ ہوا۔ لواحقین سے تعزیت، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ PMNRF سے ہر جاں بحق کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔”
بی جے پی رہنماؤں کا ردعمل
مرکزی وزیر اور مغربی بنگال بی جے پی صدر سوکانتا مجمودار نے ریاستی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کو کہا۔ انہوں نے ریاستی حکام سے حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکے جا سکیں۔
بی جے پی کے رہنما دلیپ گھوش نے واقعے کا الزام غیر قانونی تعمیرات اور حکومت کی لاپروائی پر عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے غیر محفوظ عمارتوں کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ایسے المناک واقعات پیش آتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر تنقید
واقعے کے وقت وزیراعلیٰ ممتا بنرجی دیگھا میں ایک مندر کی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں، جس پر بی جے پی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی المیے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔سوکانتا مجمودار نے کہا: “جب معصوم لوگ جل رہے ہیں اور مر رہے ہیں، وزیراعلیٰ مذہب کا سیاسی فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔”
حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور ریاستی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ واقعہ ریاست میں عمارتوں کی سلامتی، فائر سیفٹی پروٹوکول اور حکومتی نگرانی پرمختلف سوالات قائم کررہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…