قومی

Lalu Prasad Yadav reaction on Caste Census: ذات پات پرمبنی مردم شماری کے فیصلہ پرلالویادونے دیا بڑا بیان، کہا- ”انہیں اپنے ایجنڈے پرنچاتے رہیں گے…“

مرکزی حکومت نے بدھ کوبڑا فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مردم شماری میں ہی وہ ذات پات پرمبنی مردم شماری کرائے گی۔ یہ وہ موضوع ہے، جسے لے کراپوزیشن مسلسل حکومت پر حملہ آوررہا ہے۔ اپوزیشن مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ مودی حکومت ذات پات پرمبندی مردم شماری کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ اب حکومت کے اس اعلان کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) سربراہ لالوپرساد یادونے بڑا حملہ بولا ہے۔ اس موضوع کواپنے ذریعہ پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ان سنگھیوں کوہمارے ایجنڈا پرنچاتے رہیں گے۔

ذات پات پرمبنی مردم شماری کے اعلان پرلالوپرساد یادونے کہا کہ جب میں جنتا دل کا قومی صدرتھا، دہلی میں ہماری متحدہ محاذ (یوپی اے) کی حکومت نے 97-1996 میں کابینہ سے 2001 کی مردم شماری میں ذات شماری کرانے کا فیصلہ لیا تھا۔ بعد میں این ڈی اے کی واجپئی حکومت نے اس پرعمل نہیں کیا۔

میں نے ملائم-شرد نے کئی دن پارلیمنٹ ٹھپ کیا

آرجے ڈی سربراہ نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری میں پھرذات پات پرمبنی مردم شماری کے لئے ہم نے پارلیمنٹ میں زبردست مطالبہ کیا۔ میں نے ملائم سنگھ یادواورشرد یادونے اس مطالبہ سے متعلق کئی دن پارلیمنٹ ٹھپ کیا۔ بعد میں اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے سماجی اوراقتصادی سروے کرانے کی یقین دہانی کے بعد ہی پارلیمنٹ چلنے دی۔ ملک میں سب سے پہلے ذات پات پرمبنی مردم شماری سروے بھی ہماری 17 ماہ کی عظیم اتحاد (مہا گٹھ بندھن) کی حکومت میں بہارمیں ہی ہوا۔

ان سنگھیوں کو ہمارے ایجنڈا پرنچاتے رہیں: لالو یادو

لالو پرساد یادو نے کہا کہ ہم سوشلسٹ ریزرویشن، ذات پات پرمبنی مردم شماری، مساوات، بھائی چارہ، سیکولرازم وغیرہ کے بارے میں 30 سال پہلے سوچتے ہیں، دوسرے لوگ دہائیوں بعد اس کی پیروی کرتے ہیں۔ جب ہم نے ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کیا توہمیں ذات پرست کہنے والوں کومنہ توڑجواب ملا، ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ہم ان سنگھیوں کواپنے ایجنڈے پرنچاتے رہیں گے۔

تیجسوی یادونے بتائی اگلی لڑائی اب کیا ہوگی

تیجسوی یادونے کہا، یہ ہم لوگوں کا 30 سال پرانا مطالبہ رہا ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں، سماجوادیوں اورلالویادوکی جیت ہے۔ پہلے ہم وزیراعظم سے ملنے گئے تھے، لیکن پھروزیراعظم نے انکارکردیا تھا۔ ہماری طاقت دیکھیں کہ آج انہیں ہمارے ہی ایجنڈے پرکام کرنا ہے۔ اب ہماری اگلی لڑائی یہ ہوگی کہ ملک کے اسمبلی انتخابات میں دلت اورقبائلی بھائیوں جیسے پسماندہ اورانتہائی پسماندہ طبقات کے لئے نشستیں مخصوص کی جائیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

A Vision for Mumbai’s Future Gateway: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر، 60 سال پرانی عمارت کی جگہ بنے گا جدید ’گیٹ وے‘

دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…

3 hours ago

TB Mukt Bharat: انڈمان و نکوبار سے ’ٹی بی مکت بھارت‘ مہم کا آغاز، ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما نے افسران و ملازمین کو دلایا عہد

انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…

4 hours ago