بین الاقوامی

US Proposes New Tariffs on India: ڈونالڈ ٹرمپ کی دوہری چال: دہلی میں ‘دوستی’ کی میز، واشنگٹن سے 12.5 فیصد ٹیرف کا وار، نشانے پر60 ممالک

بین الاقوامی سفارت کاری اور تجارت میں امریکہ کی ’دوہری پالیسی‘ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ ایک طرف نئی دہلی میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے خوشگوار بیانات اور تعاون کی باتیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ بھارتی معیشت کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ نے بھارت سمیت دنیا کی 60 بڑی معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کرکے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس اقدام کو بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات عالمی سپلائی چین اور برآمدی شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی برآمد کنندگان کو لگ سکتا ہے جھٹکا

اگر یہ تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ کو برآمد کی جانے والی متعدد بھارتی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں امریکی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات، کیمیکلز، آٹو پارٹس اور دیگر برآمدی شعبے اس فیصلے سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

’جبری مشقت‘ کو بنیاد بنایا گیا

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض ممالک میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی سپلائی چین میں جبری مشقت یا مزدوروں کے استحصال کے خدشات پائے جاتے ہیں، اسی بنیاد پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم متاثرہ ممالک کی جانب سے اس مؤقف پر اعتراضات بھی متوقع ہیں۔

60 ممالک نشانے پر

رپورٹ کے مطابق بھارت کے علاوہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک بھی اس مجوزہ ٹیرف پالیسی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کو امریکہ کی “امریکہ فرسٹ” تجارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے لیے چیلنج

بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں، لیکن مجوزہ ٹیرف سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ برآمدی صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اضافی محصولات نافذ ہوئے تو بھارتی کمپنیوں کی لاگت اور عالمی مسابقت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تجویز پر عالمی سطح پر مزید بحث ہوگی اور متاثرہ ممالک امریکہ کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر مذاکرات تیز کر سکتے ہیں، تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

11 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

12 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

13 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

14 hours ago