بین الاقوامی سفارت کاری اور تجارت میں امریکہ کی ’دوہری پالیسی‘ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ ایک طرف نئی دہلی میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے خوشگوار بیانات اور تعاون کی باتیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ بھارتی معیشت کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ نے بھارت سمیت دنیا کی 60 بڑی معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کرکے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس اقدام کو بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات عالمی سپلائی چین اور برآمدی شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بھارتی برآمد کنندگان کو لگ سکتا ہے جھٹکا
اگر یہ تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ کو برآمد کی جانے والی متعدد بھارتی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں امریکی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات، کیمیکلز، آٹو پارٹس اور دیگر برآمدی شعبے اس فیصلے سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
’جبری مشقت‘ کو بنیاد بنایا گیا
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض ممالک میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی سپلائی چین میں جبری مشقت یا مزدوروں کے استحصال کے خدشات پائے جاتے ہیں، اسی بنیاد پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم متاثرہ ممالک کی جانب سے اس مؤقف پر اعتراضات بھی متوقع ہیں۔
60 ممالک نشانے پر
رپورٹ کے مطابق بھارت کے علاوہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک بھی اس مجوزہ ٹیرف پالیسی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کو امریکہ کی “امریکہ فرسٹ” تجارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت کے لیے چیلنج
بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں، لیکن مجوزہ ٹیرف سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ برآمدی صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اضافی محصولات نافذ ہوئے تو بھارتی کمپنیوں کی لاگت اور عالمی مسابقت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تجویز پر عالمی سطح پر مزید بحث ہوگی اور متاثرہ ممالک امریکہ کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر مذاکرات تیز کر سکتے ہیں، تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نانا پاٹیکر نے اپنے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کریئر میں کئی دمدار اور یادگار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 2022 میں 5جی کے آغاز سے لے کر 2024…
نانا پاٹیکر نے 1978 میں ڈرامہ فلم ’گمن‘ سے ہندی سنیما میں قدم رکھا تھا۔…
نانا پاٹیکر مراٹھی فلموں میں بھی سرگرم رہے۔ ’نٹ سمراٹ‘ ان کی انتہائی مقبول اور…
پی ایم مودی نے کہا کہ نانا پاٹیکر کو ان کے بے باک اور واضح…
آئی ایم سی 2026 میں 9 بڑے شعبوں کو شامل کیا جائے گا، جن میں…