واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران نیٹو اتحاد سے امریکہ کے ممکنہ انخلا پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں مارک روٹے سے ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی سکیورٹی صورتحال اور اتحاد کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان ایران کے خلاف امریکی اقدامات پر اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔ کئی یورپی ممالک نے امریکی پالیسیوں پر مکمل حمایت نہ دے کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس پر امریکی قیادت ناراض دکھائی دے رہی ہے۔
نیٹو کی کارکردگی پر ٹرمپ کی تنقید
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے نیٹو کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’کمزور‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کو ایک اہم امتحان کا سامنا تھا، جس میں وہ ناکام رہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نیٹو سے علیحدگی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے مزید بات چیت متوقع ہے۔ ملاقات کے دوران خلیج میں اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، عالمی توانائی سپلائی اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ امریکی قیادت کا ماننا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کو عالمی سکیورٹی کے معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایک علیحدہ ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مارک روٹے سے ملاقات کی، جس میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعاون بڑھانے اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا گیا۔
امریکی سیاستدانوں کا نیٹو کی حمایت میں بیان
امریکی ریپبلکن رہنماؤں، بشمول سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر وکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں میں نیٹو اتحادیوں کی حمایت اہم ثابت ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے بیانات کے بعد یورپی ممالک میں تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ آیا امریکہ مستقبل میں نیٹو کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے گا یا نہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ ملاقات کے بعد کسی پالیسی تبدیلی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
نیٹو کی اہمیت اور پس منظر
نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ مغربی ممالک کے اجتماعی دفاع کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے باہمی دفاعی اصول کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد تمام ممالک اس کے دفاع کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ صورتحال میں امریکہ اور نیٹو کے تعلقات میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے عالمی سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…
زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…
شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی، توانائی،…
روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…