نئی دہلی: سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرنے کے مقصد سے وزارت محنت و روزگار نے ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او)کی تنخواہ کی حد میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی جمعرات سے نافذ ہو گئی ہے۔ تقریباً 12 سال کے طویل وقفے کے بعد اس حد میں تبدیلی کی گئی ہے۔اب ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد 15000 روپے سے بڑھا کر 25000 روپے کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تنظیم کے 8 کروڑ سے زیادہ ارکان کو اب 25000 روپے تک کی ماہانہ تنخواہ پر ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایس)، ایمپلائز پنشن اسکیم (ای پی ایس) اور ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) میں لازمی طور پر تعاون کرنا ہوگا۔ 25000 روپے سے زیادہ تنخواہ پر تعاون کرنا رضاکارانہ ہوگا۔اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان ملازمین پر پڑے گا جن کی ماہانہ آمدنی 15000 سے 25000 روپے کے درمیان ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد 51 لاکھ سے زیادہ نئے ملازمین لازمی سماجی تحفظ کے دائرے میں آ جائیں گے۔
ملازمین کے لیے کیا بدلے گا؟
15000 روپے کی تنخواہ پر پی ایف میں تعاون کرنے والے ملازمین کی پنشن میں اضافہ ہوگا۔ پہلے پنشن کے لیے 1250 روپے کا تعاون ہوتا تھا، لیکن اب 25000 روپے کی تنخواہ کے حساب سے یہ رقم 2083 روپے ہو جائے گی۔ پنشن میں تعاون تنخواہ کی حد کا 8.33 فیصد ہوتا ہے۔1952 میں ای پی ایف اسکیم شروع ہونے کے بعد یہ نویں مرتبہ ہے جب تنخواہ کی حد میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ستمبر 2014 میں تنخواہ کی حد 6500 روپے سے بڑھا کر 15000 روپے کی گئی تھی۔ اس سے قبل جون 2001 میں اسے 5000 روپے سے بڑھا کر 6500 روپے کیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہ کی حد میں یہ اضافہ ملازمین کے لیے اجرت میں اضافے کی ضرورت کی جانب بھی ایک اشارہ ہے۔ فی الحال کم از کم 7 بڑی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں غیر ہنرمند ملازمین کی قانونی کم از کم اجرت 15000 روپے کی سابقہ حد سے زیادہ ہے۔ ان میں دہلی میں 17800 روپے، مہاراشٹر میں 17000 روپے، کرناٹک میں 16800 روپے، ہریانہ میں 16500 روپے، گجرات میں 16000 روپے، راجستھان میں 15500 روپے اور اتراکھنڈ میں 15220 روپے شامل ہیں۔
ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد کی کیا اہمیت ہے؟
ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس کے دائرے میں آنے والے اداروں میں کتنے ملازمین کو تینوں اسکیموں کے تحت لازمی سماجی تحفظ حاصل ہوگا۔ملازم اور آجر دونوں ملازم کی بنیادی تنخواہ، مہنگائی الاؤنس اور ریٹیننگ الاؤنس، اگر کوئی ہو، کا 12 فیصد ای پی ایف میں جمع کرتے ہیں۔ ملازم کا پورا 12 فیصد حصہ ای پی ایف میں جاتا ہے۔ دوسری جانب آجر کے 12 فیصد تعاون میں سے 3.67 فیصد ای پی ایف اور 8.33 فیصد ایمپلائز پنشن اسکیم میں جاتا ہے۔حکومت بھی ملازمین کی پنشن کے لیے تنخواہ کی مقررہ حد تک 1.16 فیصد تعاون کرتی ہے، تاکہ کم تنخواہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ ملازم خود پنشن اسکیم میں کوئی الگ تعاون نہیں کرتا۔
EDLI اسکیم میں کیا فائدہ ملتا ہے؟
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت کے دوران موت کی صورت میں 2.5 لاکھ سے 7 لاکھ روپے تک کا لائف انشورنس کور ملتا ہے۔اس اسکیم کے لیے آجر ملازم کی تنخواہ کا 0.5 فیصد تعاون کرتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کی تنخواہ سے کوئی رقم نہیں کاٹی جاتی۔
بھارت ایکسپریس اردو
زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…
شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی، توانائی،…
روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…