نئی دہلی: ججوں، امیکس کیوری اور وکلا کے خلاف بھیجی جا رہی گمنام شکایات کو سپریم کورٹ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ بلڈر-بینک گٹھ جوڑ اور ہوم لون سب وینشن اسکیم کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ایسی شکایات کو دباؤ بنانے کی کوشش قرار دیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سی بی آئی سے یہ معلوم کرایا جائے گا کہ ان شکایات کے پیچھے کون ہے۔
ہم مضبوط لوگ ہیں
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ ان شکایات کے پیچھے بلڈر ہوں اور ممکن ہے کہ کچھ ایسے وکلا بھی ہوں، جنہوں نے انہیں اس طرح کی غلط صلاح دی ہو۔عدالت نے واضح الفاظ میں کہا، انہیں سمجھنا ہوگا کہ ہم مضبوط لوگ ہیں۔ ایسی حرکتیں ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔ ہمیں دباؤ میں لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
درج ہو سکتی ہے ایف آئی آر
عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی کو گمنام شکایات کا ایک سیٹ دیتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ معلوم کریں کہ ان شکایات کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت کے دوران شکایات کا ایک اور سیٹ بھی دیا جائے گا۔عدالت نے اشارہ دیا کہ اگر تحقیقات میں شکایات کے پیچھے بلڈر یا ان کے لیے کام کرنے والے وکلا کا کردار سامنے آتا ہے تو ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے اور معاملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
کیا ہے اصل معاملہ؟
29 اپریل 2025 کو سپریم کورٹ نے بلڈروں اور بینکوں کی مبینہ ملی بھگت سے ہوم بائرز کو ہونے والے نقصان کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی تھیں۔ عدالت نے سی بی آئی کو 7 ابتدائی تحقیقات (PE) درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ان میں ایک تحقیقات سپرٹیک کے منصوبوں سے متعلق تھی، جبکہ 5 تحقیقات نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، یمنا ایکسپریس وے، غازی آباد اور گروگرام کے دیگر منصوبوں سے متعلق تھیں۔ ایک تحقیقات دہلی-این سی آر سے باہر کے دیگر بلڈروں کے منصوبوں کے لیے کی جانی تھی۔
ادھورے منصوبوں کے باوجود ای ایم آئی وصول کرنے کا الزام
یہ معاملہ تقریباً 1200 ہوم بائرز کی شکایات کے بعد سامنے آیا تھا۔ عرضی گزاروں نے بتایا تھا کہ بلڈروں کی جانب سے تاخیر کے باعث انہیں اب تک فلیٹوں کا قبضہ نہیں ملا، لیکن بینک ان سے قرض کی ای ایم آئی وصول کر رہے ہیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پایا تھا کہ سب وینشن اسکیم کے تحت بینک ادھورے منصوبوں کے لیے بھی بلڈر کے کھاتے میں قرض کی 60 سے 80 فیصد تک رقم منتقل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد فلیٹ خریداروں پر قرض کی ای ایم آئی ادا کرنے کے لیے دباؤ بنایا جا رہا تھا۔
اب تک 50 ایف آئی آر درج
سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی اس معاملے میں اب تک 50 ایف آئی آر درج کر چکی ہے۔ ان میں سے 18 معاملات میں تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ 17 مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ ایک معاملے میں کلوزر رپورٹ پیش کی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 5 معاملات میں بینک افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کی گئی ہیں اور ان کے خلاف انسداد بدعنوانی قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…