نئی دہلی: ملک کے معروف نٹھاری قتل معاملے میں ملزم رہے سریندر کولی نے ہریدوار میں خودکشی کر لی۔ کولی کی لاش چائے کی دکان کے اندر رسی کے سہارے لٹکی ہوئی ملی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ کچھ دنوں سے ہریدوار میں چائے کی دکان چلا کر گزر بسر کر رہا تھا۔ نٹھاری معاملے سے متعلق آخری کیس میں سپریم کورٹ نے بھی اسے بری کر دیا تھا۔جمعہ کو ہریدوار کے بھوپت والا علاقے میں ایک چائے کی دکان کے اندر ایک شخص کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ متوفی کی شناخت سریندر کولی کے طور پر ہوئی، جو نٹھاری معاملے میں ملزم رہ چکا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ سریندر گزشتہ کچھ عرصے سے بھوپت والا علاقے کی ایک جھگی میں رہ رہا تھا اور قریب ہی چائے کی دکان لگا کر اپنا گزر بسر کر رہا تھا۔ جمعہ کی صبح آس پاس کے لوگوں کو دکان کے اندر کچھ مشتبہ نظر آیا، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
سپریم کورٹ سے ملی تھی راحت
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے راحت ملی تھی۔ 11 نومبر 2025 کو عدالت نے اسے اس معاملے میں بری کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کولی کو قصوروار قرار دینے اور سزا سنانے کے لیے ماتحت عدالتوں نے جن شواہد کو بنیاد بنایا تھا، وہ قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ عدالت کے مطابق یہ شواہد غیر قانونی، ناقابل اعتماد اور باہمی طور پر متضاد تھے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے اسے اس کیس میں بری کر دیا تھا۔
کیا ہے نٹھاری معاملہ؟
نٹھاری علاقے میں 2005-2006 کے دوران بچوں اور خواتین کے لاپتا ہونے کے واقعات نے پولیس کی تشویش بڑھا دی تھی۔ مسلسل سامنے آنے والے ان معاملات کی تفتیش کے دوران پولیس 29 دسمبر 2006 کو سیکٹر-31 میں واقع کاروباری مونندر سنگھ پندھیر کی کوٹھی D-5 تک پہنچی تھی۔کوٹھی کے پیچھے موجود نالے اور آس پاس کے علاقے کی تلاشی کے دوران پولیس کو کئی انسانی کھوپڑیاں، ہڈیاں، کپڑے اور دیگر اشیا ملی تھیں۔ ان برآمدگیوں کے بعد مونندر سنگھ پندھیر اور اس کے گھریلو ملازم سریندر کولی کو گرفتار کیا گیا تھا۔جنوری 2007 میں اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس نے گمشدگی اور جرائم سے متعلق مجموعی طور پر 19 الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھیں، جن میں سے 16 معاملات میں سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی تھی۔تفتیش کے دوران سریندر کولی پر قتل، عصمت دری، اغوا اور شواہد مٹانے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مختلف معاملات میں اسے کئی مرتبہ سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔
شریک ملزم مونندر سنگھ پندھیر بھی رہا ہوا
اس معاملے میں شریک ملزم رہے مونندر سنگھ پندھیر بھی کئی برس تک جیل میں رہے تھے۔ کیس میں بری ہونے کے بعد انہیں 20 اکتوبر 2023 کو جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔2006 میں گرفتاری کے وقت سریندر کولی کی عمر 30 سال تھی۔ نٹھاری معاملے سے متعلق مختلف مقدمات میں کئی برس تک قانونی کارروائی چلتی رہی اور بالآخر سپریم کورٹ سے اسے آخری کیس میں بھی بری کر دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…